رسولﷺ نے فرمایا کہ تین لوگ چاہے جتنی لمبی نمازپڑھیں ان کی نمازکبھی قبول نہیں ہوتی

نماز

ڈیلی نیوز! روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں بڑھتی 1؎ بھاگا ہوا غلام حتی کہ لوٹ آئے اور وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوند ناراض ہو۔ ؎نمبر 2 ۔۔۔۔۔اور قوم کا امام کہ قوم اسے ناپسند کرے3؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ شرح ۱؎ یعنی قبولیت تو کیا بارگاہ ِ الٰہی میں پیش بھی نہیں ہوتی

جیسے دوسری نیکیاں پیش ہوتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:”اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ”۔چونکہ کان انسان کا سب سے قریب عضو ہے کہ اس سے ہی تلاوت کی آواز سنی جاتی ہے اس لیے اس کا ذکر ہوا۔ ۲؎عورت کی بدخُلقی اور نافرمانی کی وجہ سے اور اگر بلاوجہ ناراض ہے تو عورت کا کوئی نقصان نہیں اور اگر ظلم مرد کی طرف سے ہے تو حکم برعکس ہوگا یعنی بغیرعورت کو راضی کئے مرد کی نماز قبول نہ ہوگی۔(لمعات مرقاۃ) ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں امام سے مراد نماز کا امام ہے اور ناپسندیدگی سے مراد امام کی جہالت یا بدعملی یا بدمذہبی کی وجہ سے ناراضی ہے ۔اگر لوگ دنیاوی وجہ سے ناراض ہوں تو اس کا اعتبار نہیں بلکہ اس صورت میں وہ لوگ گنہگار ہوں گے۔خیال رہے کہ

ناراضی میں اکثر کا اعتبار ہے دو چار آدمی تو ہر ایک سے ناراض ہوتے ہی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہم کو دین اسلام کو سمجھنے ، اس پر عمل کرنے اور اسی کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے

Leave a Comment