سونے کی طلب اور نرخ کیوں بڑھ رہے ہیں؟

عالمی مارکیٹ میں حالیہ ایام کے دوران سونے کے نرخ دوبارہ تیزی سے بڑھنے لگے، جو 1900 ڈالر کی حد عبور کر چکے ہیں۔ اپریل سے سونے کے نرخوں میں تدریجی اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔ اُس وقت ایک اونس سونے کی قیمت 1670 ڈالر تھی جبکہ مئی میں ایک اونس سونے کی قیمت میں 230 ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ سنہ 2020 کے دوران ایک اونس سونا دو بار دو ہزار ڈالر کی حد عبور کر گیا تھا۔

نئے اضافے کے تناظر میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھ۔نے لگا ہے کہ کیا سونے کے نرخ 2000 ڈالر کی حد کو عبور کر جائیں گے۔ عکاظ اخبار کے مطابق مالیاتی و اقتصادی مشیر ماجد الصویغ نے بتایا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سونے کی طلب بڑھ رہی ہے۔ اسی دوران چین کا یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیز کا لین دین محدود ہوا ہے خصوصا بٹ کوائن کی طلب محدود ہوئی ہے۔ ‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے سینٹرل بینک نے ڈیجیٹل کرنسیز کے ذریعے دہشتگردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں کی بابت تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ اطلاع ملتے ہی بٹ کوائن کی قدر ایک ہفتے میں 64 ہزار ڈالر سے گر کر 37 ہزار تک ڈالر تک آ گئی۔ ماجد الصویغ نے مزید بتایا کہ پوری دنیا میں بانڈ منافع کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔

اس غیرمستحکم صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کار سونا خریدنے لگے ہیں۔ پوری دنیا میں سونے کا لین دین عام ہے اور اس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ طلب کے ساتھ نرخ بھی بڑھ رہے ہیں۔ سنہ 1996 اور 1997 کے مقابلے میں سونے کے موجودہ نرخ بہت زیادہ ہیں۔۔ گولڈ مارکیٹ کے سرمایہ کار محمد عبدالحکیم کا کہنا ہے کہ سونے کے نرخوں کے بارے میں کوئی حتمی قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ سیاسی و اقتصادی حالات منظرنامہ ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کر دیتے ہیں۔

Leave a Comment