آپؐﷺ نے فرمایا دوستوں کے بارے میں شکوک نہ پالوشک دوستی کیلئے زہر ہوتا ہے مزید جانیے اس تحریر میں

! ڈیلی کائنات ! آپؐﷺ نے فرمایا دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو. ہم جب دوسروں میں عیب ڈھونڈتے ہیں تو ہم چغلی‘ غیبت اور منافقت جیسی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں. فرمایا دوستوں کے بارے میں شکوک نہ پالو‘ شک دوستی کیلئے زہر ہوتا ہے. ہم جب دوستوں کے بارے میں مشکوک ہوتے ہیں تو دوستی کا دھاگہ کمزور ہو جاتا ہے. چنانچہ شک سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔ فرمایا چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر نہ دیکھو‘ چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ایک نفسیاتی بیماری ہے.

یہ بیماری خوفزدہ‘ ڈرے اور سہمے ہوئے لوگوں میں کامن ہے. ہم جب چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم اس بیماری کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں. پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ہماری توجہ بھی بٹ جاتی ہے. ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے. ہماری رفتار بھی آدھی رہ جاتی ہے اور ہم بلاوجہ دوسرے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کر لیتے ہیں۔ فرمایا ایڑھیاں مار کر نہ چلو‘ ایڑھیاں مار کرچلنا یا چلنے کے دوران دھمک یا آواز پیدا کرنا تکبر کی نشانی ہے اور تکبر مسلمانوں کو سوٹ نہیں کرتا. ہمارے پاؤں کا ہمارے دماغ کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہوتا ہے. ایڑھیاں مارنے سے ہمارے دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں. ہم دماغی لحاظ سے کمزور ہو جاتے ہیں‘ آپ کو ایڑھیاں مار کر چلنے والے جلد یا بدیر دماغی امراض کی ادویات کھاتے ملیں گے۔ فرمایا کسی کے بارے میں جھوٹ نہ بولو‘ جھوٹ دنیا کی سب سے بڑی معاشرتی برائی اور گناہوں کی ماں ہے. ہم اگر صرف جھوٹ بند کر دیں

تو معاشرہ ہزاروں برائیوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ فرمایا ٹھہر کر صاف بولا کرو تا کہ دوسرے پوری طرح سمجھ جائیں. جھوٹ کے بعد غلط فہمی معاشرے کی سب سے بڑی برائی ہے. ہم جب گفتگو میں واضح نہیں ہوتے تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں. چنانچہ ہم جب بھی بولیں بلند، واضح اور صاف بولیں۔ آپ ؐ نے فرمایا اکیلے سفر نہ کیا کرو‘ یہ فرمان بھی حکمت سے بھرپور ہے. اکیلا آدمی خوفزدہ بھی رہتا ہے. پریشان بھی اور یہ عموماً حادثوں کا شکاربھی ہو جاتا ہے. تحقیق سے ثابت ہوا سفر کے دوران اکیلے آدمی زیادہ لٹتے ہیں. زیادہ جلدی بیمار ہوتے ہیں اور یہ زیادہ غلط فیصلے کرتے ہیں چنانچہ جب بھی سفر کریں ایک یا دو لوگوں کو ساتھ شامل رکھیں بالخصوص عورت کو کبھی اکیلے سفر نہ کرنے دیں۔ فرمایا فیصلے سے قبل مشورہ ضرور کیا کرو‘ انسان 16 کیمیکلز کا مجموعہ ہے. یہ کیمیکلز ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں‘

ہم جب بھی تنہا فیصلے کرتے ہیں ہم موڈز کے تابع فیصلے کرتے ہیں اوریہ عموماً غلط ہوتے ہیں چنانچہ فیصلے سے قبل مشورہ ضروری ہے اور مشورہ ہمیشہ سمجھ دار کی بجائے تجربہ کار شخص سے کرنا چاہیے. آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوگا۔ فرمایا کبھی غرور نہ کرو‘ غرور ایک ایسی بری عادت ہےجس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا‘ میں نے پوری زندگی کسی مغرور شخص کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا. یہ غیر طبعی موت مرتے ہیں اورہمیشہ بے عزتی اور ذلت وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ فرمایا شیخی نہ بگھارو‘ یہ بھی کمال اصول ہے‘ میں نے آج تک کسی شیخی خور کو باعزت نہیں دیکھا‘ ہم عزت بڑھانے کیلئے شیخی مارتے ہیں اور ہمیشہ پرانی عزت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ فرمایا گدا گروں کا پیچھا نہ کیا کرو‘ ہم میں سے بے شمار لوگ فقیر کو دس بیس روپے دےکر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ واقعی حق دار تھا یا نہیں‘ یہ عادت ہمیں شکی بھی بنا دیتی ہے اور یہ صدقے اور خیرات سے بھی دور کر دیتی ہے۔

فرمایا مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو. یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کر دیتی ہے. آپ کو مہمان نوازوں میں ہمیشہ مقناطیسی کشش ملے گی. آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا غربت میں صبر کیا کرو. یہ فرمان بھی کیا شاندار فرمان ہے. صبر بہت بڑی دولت ہے. یہ دولت کبھی کسی انسان کو غریب نہیں رہنے دیتی‘ آپ صابر ہو جائیں آپ کے حالات دنوں میں بدل جائیں گے‘ آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا اچھے کاموں میں دوسروں کی مدد کیا کرو‘ اچھائی نیکی ہوتی ہے اور نیکی میں دوسروں کا ساتھ دینے والے بھی جلد نیک ہو جاتے ہیں. آپ صرف نیک لوگوں کے معاون بن جائیں آپ نیکوں سے بھی آگے نکل جائیں گے۔ فرمایا اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو‘ تحقیق بتاتی ہے ہم اگر اپنی کسی ایک خامی پر قابو پا لیں تو ہم میں دس خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں. آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا برا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو‘ یہ بھی آزما کر دیکھیں‘ یہ عادت آپ کے دشمنوں کی تعداد کم کر دے گی۔

فرمایا اللہ نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو‘ میرا تجربہ ہے ہم دوسرے پرندے کی کوشش میں ہاتھ کا پرندہ بھی اڑا بیٹھتے ہیں‘ ہمیں جو مل جائے ہم اگر اسے انجوائے کرنا سیکھ لیں تو یہ دنیا جنت ہو جاتی ہے۔فرمایا زیادہ نہ سویا کرو‘ زیادہ نیند یادداشت کو کمزور کر دیتی ہے‘ یہ بھی طبی لحاظ سے درست ہے‘ نیند موت کی پچھلی سٹیج ہے‘ یہ بڑھ جائے تو ہمارے برین سیل مرنے لگتے ہیں. چنانچہ سات گھنٹے سے کم اور آٹھ گھنٹے سے زیادہ نیند نہیں لینی چاہیے اور چالیسواں فرمان‘ فرمایا روزانہ کم از کم سو بار استغفار کیا کرو‘ یہ عادت بھی عبادت ہے‘ آپ کر کے دیکھیں‘ آپ کو نتائج حیران کر دیں گے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button