ہار مونز کے مسئلے اور با ل بھی تیزی سے گر تے ہیں

پاکستان ٹپس ! اللہ تعالیٰ نے ہر عورت کے اندر ایک ایسا نظام بنایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر مہینے کے کچھ دنوں میں بلوغت کے بعد خاص ایام آتے ہیں یہ خاص ایام عورت کی اندرونی صحت کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں ۔ ان ایام کا وقت پر آنا اور درست طریقے سے آنا صحت مندی کی دلیل ہوتی ہے مگر ان میں ہونے والی بے قاعدگی خواتین کی آئندہ زندگی میں مشکلات کا سبب ہو سکتی ہے اور کئی بڑی بیماریوں کا سبب بھی ہو سکتی ہے-

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ماہواری کے حوالے سے کسی بھی مسئلے کے لیے شادی سے قبل ڈاکٹر کو دکھانا معیوب تصور کیا جاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کے ان مسائل کا جب شادی کے بعد پتہ چلتا ہے تو وہ دیر ہو جانے کے سبب بڑے مسائل میں تبدیل ہو چکی ہوتے ہیں اور بعض اوقات بانجھ پن اور کینسر جیسے جان لیوا امراض میڑ تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں انہی مسائل کے حوالے سے کچھ علامات کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے-عام طور پر ہر عورت کو اپنی زںدگی میں اس درد کا سامنا تقریبا ہر مہینے کرنا پڑتا ہے یہ درد پیٹ کے نچلے حصے کی جانب ہوتا ہے- اس کے علاوہ کمر اور ٹانگوں تک جاتا ہے قابل برداشت حد میں یہ درد نارمل ہوتا ہے اور درحقیقت ماہواری کے دنوں میں ایک خاص ہارمون کے سبب ہوتا ہے-

مگر بعض اوقات یہ درد شدت اختیار کر لیتا ہے اور بعض لوگوں میں یہ درد ناقابل برداشت حد تک ہوتا ہے اس کے ساتھ متلی ، الٹی موشن چکر بھی آتے ہیں یہاں تک کہ بے ہوشی کا سبب بھھی بن سکتا ہے- اس کی شدت کے بارے میں بڑی بوڑھیاں لڑکیوں کو یہ کہہ کر تسلی دیتی نظر آتی ہیں کہ خیر ہے سب کو ہوتا ہے شادی کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے- مگر اب میڈیکل سائنس کی جدید ترین تحقیق کے مطابق یہ درد خطرنا ک بیماری کا باعث ہو سکتا ہے-اس بیماری میں یوٹرس کے اندر اور اووری کے اندر ایسے خلیات بننا اور جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو ماہواری کے دنوں میں شدید ترین درد کا باعث بنتے ہیں- یہ ایک خطرناک بیماری ہے اور اگر اس کا علاج بر وقت نہ کیا جائے تو کینسر کا باعث بھی ہو سکتا ہے اس کی علامات میں ماہواری سے قبل اور اس کے

دوران شدید ترین درد ہوتا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہوتا ہے- اس کی جانچ کے لیے بلڈ ٹیسٹ اور الٹراساونڈ ڈاکٹر کی جانب سے کروایا جاتا ہے یہ تقریبا ناقابل علاج مرض ہے تاہم آپریشن کے ذریعے اس کے بڑھتے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے یہ بانجھ پن کا سبب بھی ثابت ہو سکتی ہے- اووری کے اندر کسی قسم کی سسٹ کی موجودگی بھی شدید ترین ماہواری کے دردوں کا باعث ہو سکتی ہے یہ سسٹ الٹراساونڈ سے دیکھی جا سکتی ہے اور اس کے علاج کا فیصلہ ڈاکٹر اس کے نوعیت اور سائز کے اعتبار سے کرتے ہیں- بعض اوقات صرف ادویات کے استعمال سے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے مگر اگر اس کا سائز بڑا ہو یا پھر اس کی نوعیت خطرناک ہو تو اس صورت میں ڈاکٹر آپریشن کا مشورہ دیتے ہیں- اس کے سبب اووری مادہ خلیہ بنانے کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہے

جس کے سبب حمل کے ٹہرنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں-یہ بیماری فیلوپن ٹیوبز سے متعلق ہوتی ہےجس کے سبب اووری اور یوٹرس کے درمیان ٹیوب میں سوزش ہو جاتی ہے جس کے سبب اووری سے مادہ خلیات کے یوٹرس میں جانے کا راستہ بند ہو جاتا ہے جس کے سبب ماہواری کے وقت شدید ترین درد ہوتا ہے- اس بیماری کے باعث عام طور پر حمل اگر ٹہر بھی جائے تو ٹیوب بند ہونے کے سبب وہ بچے دانی سے باہر کی جانب ہوتا ہے جو بہت خطرناک ہوتا ہے اور اس کے ضائع ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں- اس بیماری کے متعلق بھی ڈاکٹر الٹراساونڈ کی مدد سے جانچ لیتے ہیں اور ادویات کے ذریعے اس سوزش کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے-

Leave a Comment