امام مسجد کی نوجوان لڑکی بغیر نکاح کے ہی حاملہ ہو گئی لڑکی اپنی پرہیزگاری کی وجہ سے بہت مشہور تھی۔

پاکستان ٹپس ! کلثوم بچپن سے ہی ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی وہ مولوی صاحب کی اکلوتی بیٹی تھی جب وہ جوان ہوئی تو اس کی خوبصورتی کے چرچے پورے گاؤں میں ہونے لگے ایک رئیس کا بیٹا اس پر اپنا دل ہار بیٹھا تھا وہ خود ایسی محفلوں کی زینت بنتا تھا جہاں شراب نوشی عام تھی اور کئی طرح کی عورتوں سے اس نے ناجائز تعلقات بنائے تھے۔ جب اس سے اس کے دوست نے پوچھا کہ تم تو ایک رنگین مزاج آدمی ہو پھر تجھے امام مسجد کی

بیٹی پسند کیوں آئی ہے اس نے جواب دیا کہ یہ سب چیزیں تو میں اپنا دل بہلانے کے لئے کرتا ہوں مگر ان کو میں اپنے گھر کی زینت نہیں بنا سکتا س دوست نے کہا اگر تم اس لڑکی کو اپنانا چاہتے ہو تو تجھے یہ سب چھوڑنا پڑے گا یہ ب رئیس اس نے اپنے دوست سے کہا کہ میرے معاملات میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے میں وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا اسکا دوست اسی کے خرچے پر ہی پل رہا تھا اس نے دل میں سوچا کہ یہ تو عقل کا اندھا ہے اگر میں اسے ناراض کر بیٹھا تو میرا تو خرچہ پانی بند ہو جائے گا۔ اس نے رئیس کے بیٹے سے کہا یار میں تو مذاق کر رہا تھا تم بالکل ٹھیک بات کر رہے ہو رئیس کے بیٹے نے اپنی ماں کو امام مسجد کے گھر بھیجا تا کہ وہ اس کے رشتے کی بات کر سکے امام مسجد نے کہا کہ مجھے سوچنے کا وقت درکار ہے میں

اپنی بیٹی کی مرضی ضرور پوچھوں گا۔ مولوی صاحب اپنی بیٹی کے پاس آئے اور کہا کہ گاؤں کے رئیس کی بیوی اپنے بیٹے کے لئے ہمارے گھر آئی تھی میں تم سے تمہاری مرضی پوچھنا چاہتا ہوں کلثوم نے کہا کہ ابا جان وہ ایک عیاش اور بدکار انسان ہے اگر آپ میری مرضی پوچھنا چاہتے ت تو میں ایسے شخص ش شریک حیات نہیں بن سکتی۔ مولوی صاحب نے کہا کہ بیٹی تم نے میرے دل کی بات کر ڈالی مجھے بھی وہ آدمی پسند نہیں ہے بس میں دیکھنا یہ چاہ رہا تھا کہ تم کون سا فیصلہ کرتی ہو کچھ دن بعد رئیس کے بیٹے نے اپنی ماں کو دوبارہ مولوی صاحب کے گھر بھیجا مولوی صاحب نے صاف انکار کر دیا اس کی ماں واپس گھر لوٹ گئی اور اپنے بیٹے کو سب بتا دیا۔ رئیس کا بیٹا غصے سے پاگل ہو گیا اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ اس لڑکی نے مجھے

ٹھکرا کر بہت بڑی غلطی کر دی میں اس کو زمانے میں ذلیل اور رسوا کر دوں گا اس کی ماں نے اسے بہت سمجھایا کہ بیٹا اگر تم ایک سلجھے ہوئے انسان ہوتے تو وہ لڑکی تجھے کسی صورت بھی انکار نہ کرتی ہمارے پاس مال و دولت بھی ہے اچھا گھر بھی ہے۔ مگر ایک عورت مال و دولت اور گھر کو بعد میں دیکھتی ہے پہلے وہ یہ چیز دیکھتی ہے کہ وہ آدمی کیسا ہے جو اس کا ہمسفر ہوگا رئیس کے بیٹے کو اپنی ماں پر بھی غصہ آیا وہ سچائی سننے کا عادی نہیں تھا ایک دن کلثوم گلی میں گزر رہی تھی کہ اچانک یہ اس کے سا منے آگیا ے نے کلثوم سے کہا کہ اب ذلت اٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ یں گ چھ ا کلثوم نے کہا کہ عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے اگر وہ کسی کو ذلیل کرنا چاہے تو کوئی اسے معزز نہیں بنا سکتا اور اگر وہ کسی کی عزت کی حفاظت کرنا

چاہے تو کوئی دوسرا اسے ذلیل نہیں کر سکتا یہ کہہ کر کلثوم تو چلی گئی مگر رئیس کا بیٹا اب کلثوم کو بد نام کرنے کے من وبے سوچنے لگا وہ کلثوم کو ذلیل کرنے کے لیے عجیوب ب ر کبھی وہ خود سے خط لکھ کر یہ مشہور کر دیتاکہ یہ کلثوم نے مجھے خط بھیجے ہیں کبھی وہ کلثوم پر جھوٹے الزام لگاتاکہ وہ مجھے رات کو اکیلے ملنے آتی ہے اس سے جو ممکن تھا اس نے کیا مگر گاؤں کے سب لوگ جانتے تھے کہ یہ صرف الزامات ہی ان ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ایک دن مولوی صاحب اپنے چچا زاد بھائی کے بیٹے کی شادی میں رکو لیےنے کلثوم اور اس کی ماں بھی مولوی صاحب کے ساتھ ہی تھیں ایک ہفتے بعد مولوی صاحب کا خاندان واپس آیا تو کلثوم کو پیٹ میں ہلکا سا درد محسوس ہوا مولوی صاحب گاؤں کے ایک حکیم کے پاس گئے تو اس نے

کچھ ادویات دے دیں اور مولوی صاحب کو تسلی دی س ا یٹی بیٹی جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ پانچ مہینے بعد کلثوم کو دوبارہ درد ہوا اس دفعہ بہت شدید درد تھا جس کی وجہ سے کلثوم بے ہوش ہوگئی کلثوم کا پیٹ بالکل پھول گیا مولوی صاحب کلثوم کو دوبارہ حکیم کے پاس لے گئے تو حکیم نے دعوی کردیا کہ کلثوم حاملہ ہوچکی ہے کیونکہ پیٹ ان اندر بچہ حرکت کرتا دکھائی دیتا تھا یہ وہ دور تھا جس وقت الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کی سہولیات بالکل نہیں تھیں۔ مولوی صاحب شرم سے پانی پانی ہو گۓ اور کلثوم کو ساتھ لے کر گھر روانہ ہوئے رئیس کا بیٹا حکیم کے پاس آیا اور اس سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب کی بیٹی کو کیا بیماری ہے حکیم نے اس کے بیٹے کو سب کچھ بتا دیا رئیس کے بیٹے کی خوشی کی انتہا نہ رہی وہ تو اسی موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی طرح

کلثوم کو بد نام کیا جاسکے۔ اس کے دماغ میں ایک شیطانی ترکیب آئی اس نے ایک میراثی کو بہت سارے پیسے دے کر کہا کہ ڈھول بجا کر پورے گاؤں میں مشہور کر دو کہ مولوی صاحب کی بیٹی بغیر نکاح کے ہی بچے کی ماں بننے والی ہے بہت سارے لوگ یہ بات سن کر مولوی کے دروازے پر جمع ہوگئے وہ مولوی صاحب سے حقیقت جاننا چاہتے تھے مگر مولوی صاحب کا جھکا ہوا چہرہ یکھب سر انہوں نے نہ صرف مولوی صاحب کو مسجد کی امامت سے ہٹا دیا بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ دو دن کے اندر اندر یہ گاؤں چھوڑ کر چلا جائے کیونکہ ہمارے گاؤں میں ایسے بے حیا لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے کلثوم اپنی ماں کے سامنے قسمیں اٹھا کر یہی کہتی رہی کہ مجھے کسی نا محرم نے ہاتھ تک نہیں لگایا مولوی صاحب تلوار لے کر آئے اور کلثوم ام ا ر اس نے

کہا کہ میں یہ ثابت کروں گی کہ میری بیٹی بے قصور ہے کلثوم کی ماں نے ایک حکیم کا نام سنا تھا جو دانائ میں بہت شہرت رکھتا تھا وہ دونوں کلثوم کو اس کے پاس لے گئے حکیم نے دیکھا کہ کلثوم کا پیٹ پھولا ہوا تھا اور پیٹ کے اندر حرکت بھی تھی اس نے ایک کمرے میں کتا ذبح کیا اور دوسرے کمرے میں بکرا ذبح کر دیا اس نے بکرے کے گوشت سے مولوی صاحب اس کی بیوی اور کلثوم کی دعوت کی. دعوت کے بعد حکیم نے کلثوم سے پوچھا کہ کبھی تم نے بغیر برتن کے کہیں سے پانی پیا تھا کلثوم نے بتایا کہ ایک بنر برتنکے تو گرمی کی وجہ سے سخت پیاس لگی تو میں نے ایک نہر سے چلو بھر پانی پی لیا تھا حکیم کلثوم کو اسی کمرے میں لے گیا جہاں کتا ذبح کیا گیا تھا کلثوم نے کراہت بھرے لہجے میں کہا کہ کتے کو کس لئے ذبح کیا گیا ہے ؟ حکیم نے کہا

کہ تمہارا علاج اسی وقت ممکن تھا جب تم کو کتے کا گوشت کھلایا جاتا تم نے ابھی جو گوشت کھایا ہے وہ کتے کا تھا کلثوم نے جیسے ہی یہ سنا تو اس کا جی متلانے لگا اور اسے ایک زوردار قے آئی اس کے پیٹ سے پہلے بہت سارا پانی نکلا اور اس کے بعد ایک بڑا سا مینڈک نکلا مولوی صاحب نے حکیم سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ حکیم نے مولوی کو بتایا کہ جب کلثوم نے نہر سے پانی پیا تھا تو اس پانی میں ایک چھوٹا سا مینڈک جو اس وقت ٹیڈ پول کی شکل میں تھا پیٹ میں چلا گیا وہ پیٹ میں پرورش پاتا رہا اور جب وہ پوری طرح مینڈک بن گیا تو پیٹ پھولنا شروع ہوگیا بالکل اسی طرح جیسے ایک عورت امید سے ہو اس کے بعد پورے گاؤں و الوں کو اس حقیقت کا پ و و گی

Leave a Comment