ایک صحابی ؓ نے حضورﷺ سے کہا میری بیوی میں یہ عیب ہے ، فرمایا

پاکستان ٹپس ! ایک صحابی نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آکر عرض کرنے لگا یا رسول اللہﷺ میری بیوی حسین وجمیل ہے اور میرے بچے بھی ہیں لیکن اس میں خامی یہ ہے کہ وہ شرم وحیاء کے معاملے میں بڑی کمزور ہےکسی بھی چھونے والے مرد کے ہاتھ رد نہیں کرتی مطلب یہ کہ غیر مردوں کی طر ف بڑی جلدی مائل ہوجایا کرتی ہے ۔ میں اس وجہ سے اپنی بیوی سے بڑا تنگ آگیا ہوں ۔ نبی کریمﷺ نے اس صحابی سے فرمایا تمہارے لیے

بہتر یہ ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۔ وہ صحابی ؓ عرض کرنے لگے کہ نبی کریمﷺ اگر میں اپنی بیوی کو طلاق دے دونگا تو میرے بچے برباد ہوجائینگے تو نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ صبر کر فرمایا دین دار عورت دین کے معاملے میں شوہر کی مدد کیا کرتی ہے اگر عورت دین دار نہیں ہوگی تو اپنے شوہر کو دین سے غافل بھی کرے گی اور ننگ وعار کا باعث بھی بنےگی نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دین دار عورت سے نکاح کرو جو دین دار عورت سے نکاح کرے گااللہ تعالیٰ اس کے نکاح میں برکت عطاء فرمائے حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت سے چار وجوہات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال ودولت کیوجہ سے حسب ونسب کیوجہ سے حسن وجمال کی

وجہ سے اور دین کیوجہ سے اور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ عورت سے اس کے دین کیوجہ سے نکاح کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کامیابی حاصل کرو گا ۔ عام طور پر لوگ عورت کو حسب ونسب مال ودولت اور حسن وجمال دیکھر نکاح کرتے ہیں یہ عارضی طور پر یہ چیزیں ہیں آج حسن وجمال ہے کوئی بیماری آگئی سارا حسن وجمال ضائع ہوجائیگا ۔ دین ایسی نعمت ہے کہ لازوال نعمت ہے اس سے آپ کی زندگی بھی بہتر ہوگی اور آنیوالی اولاد کی زندگی بھی بہتر ہوگی تو دین دار عورت کو نکاح کرنے میں ترجیح دی جائے ۔

Leave a Comment