لڑکا اور لڑکی کب کب ایک دوسرے کیلئے حلال ہوتے ہیں ؟

پاکستان ٹپس ! کیا نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے میاں بیوی آپس میں باتیں کر سکتے ہیں اور مل بھی سکتے ہیں؟نکاح کے بعد تو شرعی طور پر وہ میاں بیوی ہو جاتے ہیں۔ جبکہ باتیں کرنے کا حق تو شاید نکاح سے پہلے بھی ہوتا ہے۔ مطلب شادی تو ہے ہی نکاح کا نام۔ رخصتی تو بھائی لوگوں نےرسم کے طور پر اختیار کر رکھی ہے۔۔۔معذرت، یہاں جواب تو کوئی عالم ہی دیں گے۔ میں تو بس اپنے خیالات کے اظہار سے باز نہ آ سکا ۔نکاح کے بعد بیوی اپنے شوہر

کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔بعد از نکاح دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات بحال کرسکتے ہیں،چاہے رخصتی نہ بھی ہوئی ہو۔ البتہ اس حوالے سے عرف اور معاشرتی اخلاقیات کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔۔ جہاں تک راجا صاحب کی بات کا تعلق ہے کہ تعلق ہے کہ ’باتیں کرنے کا حق تو شادی سے پہلے بھی ہوتا ہے‘ تو اس حوالے سے عرض ہے کہ شادی سے پہلے، اگرچہ منگنی بھی ہو گئی ہو، مرد و عورت کسی قسم کے تعلقات روا نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے سے باتیں کر سکتے ہیں۔نکاح سے پہلے لڑکا اپنی منگیتر کے لیے غیر محرم ہی رہے گا اور غیر محرم سے خلوت و تنہائی اختیار کرنا یا میل جول بڑھانا حرام ہے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے ومن کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلا یخلون بامرأۃ لیس معہا ذو محرم منہا فإن ثالثہما الشیطان‘

‘ (ارواء الغلیل 1813)’’جو شخص اللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہےوہ ہرگز کسی ایسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے جس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو، کیونکہ (ایسی صورت میں) ان دونوں کا تیسرا (ساتھی) شیطان ہوتا ہے بیوٹی پارلر اور مساج سنٹر پر کیا ہوتا ہے؟کم خوبصورت، درمیانی، اور انتہائی خوبصورت لڑکیوں بیوٹی پارلرسولہ دسمبر 1971ء کی جس شام بھارتی افواج بنگلہ دیشی شہروں میں اتریں، وہ رات خواتین اور کم سن لڑکیوں پر عذاب کے آغاز کی رات تھی۔ ’’مکتی باہنی‘‘ کے تربیت یافتہ لوگ جہاں ان مردوں کو میدانوں میں لا کر ظلم کی انتہا کرتے تھے، جنہوں نے پاکستان کا پرچم بلند کیا تھا،نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں اور گھروں میں موجود خواتین کونشانہ بنانے کے بعد بھارت کے قحبہ

خانوں میں بیچ دیتے ان کے مظالم کی گواہی تو وارث میر کے کالموں میں بھی ملتی ہے، جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے چند ماہ پہلے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک وفدکے ساتھ وہاں گئے تھے اور رؤداد لکھی تھی۔ وہ 1971ء کے اپنے ایک کالم میں،ایک کمرے میں پڑی میز کا ذکر کرتے ہیں، ۔ایسے ہی یہ مظلوم موت کی آغوش میں چلے جاتے۔مگر ان کی موت کے بعد بدترین سلوک کے لیئے بیچاری عورتیں رہ جاتیں۔ بنگلہ دیش بننے کے صرف ایک سال بعد کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1973ء جنوری میں کلکتہ کے بازارِ حسن میں پچھتر(75)فیصدطوائفیں وہ لڑکیاں تھیں،جو نومولود بنگلہ دیش سے لا کر یہاں بیچی گئیں ۔ یہ سلسلہ رک جاتا تو چین آجاتا کہ ہر لڑائی کے بعد بیچاری عورتوں کو ایسے ہی بیچا جاتا ہے۔ ورلڈ وار ٹو کے بعد جاپان اور ویت نام وغیرہ

سے بچیوں کے جہاز بھر کر یورپ اور امریکہ میں بیچے گئے، ویسے ہی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس ، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک سے وہاں زبردستی لائی گئی عورتوں سے یورپ اور امریکہ کے بازار آج بھی سجے ہیں مگر یہ سلسلہ چند سال بعد ختم ہو گیا۔اگر یہ سلسلہ بنگلہ دیش میں بھی آزادی کے دو سال بعد تک ہی چلتا توبات سمجھ میں آتی ،لیکن یہاں تواس ’’خوشحال بنگلہ دیش‘‘ سے آج بھی ہر سال چھ سے آٹھ لاکھ عورتیں، بچے اور مرد ،دنیا بھر کے بازاروں میں زبردستی بھجوائے جاتے ہیں۔ بیوٹی پارلر گذشتہ سال یعنی 2019ء کی ’’امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش اس وقت دنیا میں عورتوں اور بچیوں کی اس تجارت کا

Leave a Comment