جوانی میں ہر عورت بیوی بن کر علیحدہ رہنے اور بڑھاپے میں ساس بن کر اکٹھے رہنے کی

پاکستان ٹپس !  باباجی فرماتے ہیں۔۔عورت جوانی میں بیوی بن کرعلیحدہ ہونے پر زور دیتی ہے اور بڑھاپے میں ساس بن کر اکٹھے رہنے پر دلیلیں دیتی ہیں۔۔ اس جملے پر ہم نے جتنا غور کیا، ہمیں سچ ہی لگا۔۔باباجی کاہی کہنا ہے کہ۔۔محبت اتنی اندھی ہوتی ہے کہ محبوب کی ناک بہہ رہی ہوتو شبنم کے قطروں کا گمان ہوتا ہے۔۔باباجی شادیوں کے تو حق میں ہیں لیکن بیویوں کے مخالف،ان کی ازدواجی زندگی ماشااللہ بہت شاندار گزر رہی ہے، ہمیشہ

ان کے گھر سے ہنسنے ہنسانے کی آوازیں آتی رہتی ہیں،اس کے باوجود باباجی بیگمات کے خلاف کیوں ہیں یہ الجھن آج تک سلجھ نہیں سکی۔۔ ایک دن ہم سے کہنے لگے۔۔بیوی کو اخلاقا” مہینے میں 4 دن میکے ضرور جانا چاہیے۔آخر شوہر بھی انسان ہے ذہنی سکون اس کا بھی حق ہے۔۔زن مریدوں سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ۔۔فرمانبردار شوہروں کی آدھی زندگی۔۔’’غصہ نہیں کرو پلیزُُ‘‘ کہنے میں ہی گزر جاتی ہے۔۔کورونا کی وجہ سے آج کل شادیاں ملتوی ہورہی ہیں،باباجی کا اس حوالے سے کہناہے کہ ۔۔شادیاں مؤخر نہ کریں اگر تقریبات پر پابندی ہےتو دعوتِ ولیمہ کی ہوم ڈلیوری کر دیں۔۔ابھی ہم یہ سب لکھ ہی رہے تھے کہ پیارے دوست کا میسیج بھی آگیا،لکھتے ہیں کہ۔۔کل میں گھر کے باہر جھاڑو لگا رہا تھاآج تین رشتے آئے ہیں۔باباجی کی زندگی دلچسپ واقعات

سے بھری پڑی ہے۔۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہوگا کہ ان کے ساتھ کوئی مزاحیہ سین نہ ہوا ہو، پھر جب وہ اسے اپنے انداز میں سناتے ہیں تو سونے پہ سہاگا ہوجاتا ہے، ہنس ہنس کر پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے۔۔ ایک بار باباجی کے ڈرائنگ روم میں محفل جمی ہوئی تھی۔ شادیوں کا موضوع چل رہا تھا، انہیں ایک دلچسپ واقعہ یادآگیا۔۔ کہنے لگے۔۔ لوجی، شادی کی بات ہورہی ہے تو ایک عجیب و غریب واقعہ سنو۔۔ہم سب ہمہ تن گوش ہوگئے۔۔باباجی بولنا شروع ہوئے۔۔ ہم ایک شادی میں گئے، ہمیں دلہا کے ابا نے اسٹیج پر یہ کہہ کر بٹھادیا کہ آپ محلے کے بزرگ ہیں، کچھ دیر میں نکاح ہوگا، آپ کی موجودگی باعث برکت ہوگی۔۔دلہا کے منہ پرسہرا اور گلے میں نوٹوں، پھولوں کے کئی ہار تھے۔۔نکاح شروع ہوا۔نکاح خواں نے ایجاب و قبول کے مرحلے میں لڑکے سے

کہا۔۔تیسری اور آخری بار پوچھ رہا ہوں آپ کو قبول ہے ۔۔دلہا خاموش رہا،کچھ نہیں بولا۔۔ہمیں لگا ،شاید لڑکا کسی اور لڑکی کو پسند کرتا ہوگا اور ماں باپ زبردستی شادی کرا رہے ہیں۔۔نکاح خواں نے پھر کہا ۔۔آخری بار پوچھ رہاہوں، آپ کو قبول ہے؟۔۔لڑکے نے منہ سے کوئی آواز نہیں نکالی۔۔باپ شش و پنج میں ،ماں حالتغشی میں ۔۔رشتے دار بھی کھسرپھسر کرنے لگے کہ ،لڑکے کا شاید کسی اور سے چکر ہے۔۔ جب حاضرین کی بھنبھناہٹ بڑھنے لگی تو لڑکے نے اچانک سہرہ سائیڈ پرکیا۔۔صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔اسٹیج کے پیچھے جاکر گردن کو ایک طرف جھکایا، پھر واپس صوفے پرآکر بیٹھا، کہنے لگا۔۔مولوی صاحب، قبول ہے،قبول ہے، قبول ہے۔۔ منہ میں گٹکا تھا، اتنی دیر سے گردن ہلارہا تھا، آپ نے بھی گٹکا پھنکوا کر ہی دم لیا۔

Leave a Comment