اگر کسی کو بے نقاب کرنا ہوتو اسے تین چیزیں دے دواس کی اصلیت کا پتا چل جائے گا

پاکستان ٹپس ! سب سے بڑا بزدل دل آدمی وہ ہوتا ہے۔ جس کی نیت عورت سے محبت کرنے کی نہ ہو اور وہ پھر بھی عورت کی محبت کو جگاتا ہے۔ پینتالیس ڈگری میں اپنی فیملی کےلیے کما کر لانے والا مرد اور پچاس ڈگری میں چولہے کے آگے کھانا پکانے والی عورت ہی اس معاشرے کا حسن ہیں۔ جو مرد عورت کی عزت کرتا ہو وہ انجانے میں بھی عورت کی پبلک میں توہین نہیں کرسکتا۔ زندگی میں سب معاملات خود کے بس میں نہیں ۔

جو معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے وہ یقینا ً بہترین انداز میں حل ہوتاہے۔ جہاں ظرف کمزور ہو ، وہاں بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ جو دوسروں کے پیروں تلے سے زمین کھینچتے ہیں بعض اوقات خود ان کو کہیں پاؤن رکھنے کی جگہ نہیں ملا کرتی۔ کچھ حادثے ہونا ضروری ہو ا کرتے ہیں۔ انسان کو یہ احساس دلانےکےلیے کہ دوسروں کا سہارا لینے کے بجائے اب خود پر بھروسہ کرنا ہوگا صرف رب سے رجوع کرنا ہوگا۔ حق کی بات سبھی کرتے ہیں۔ پرڈٹے رہنا ہی اصل ایمان ہے۔ انسان تو مٹی کا بنا پتلا ہے۔ جو کہ بہت کمزور ہے اللہ اسے انسان ہی کے ہاتھوں تکلیف پہنچا کر اپنا آپ دے دیتا ہے۔ انسانوں کا کیا ہے۔ وہ تو اپنے بھی دشمن ہوا کرتے ہیں۔ جس سے محبت ہو اگر اس محبت میں بھی اللہ کی نافرمانی شامل ہو تو وہ محبت نہیں دھوکہ ہوا کرتا ہے۔ یہ محبت بھی ناں بہت عجیب فلسفہ ہے۔ خود کا کسی کےساتھ موازنہ مت کیا کرو۔ کیا تمہارے لیے یہ اعزاز کم ہے۔ کہ تم نبی کریم ﷺ کے امتی ہو۔ اشرف المخلوقات ہو۔

کڑھنا، جلنا اور مقابلہ کرنا چھوڑ دیں۔ اگر کسی کو بے نقاب کرنا ہے تو اسے تین چیزیں دے تو اس کی اصلیت کا پتا لگ جائےگا عزت ،وقت اور ادھار۔ میں نے اپنی زندگی کے گزرے ہوئے چند دنو ں سے جو سیکھا ہے ۔ وہ ہے خاموش ہوجانا۔ کوئی دل دکھائے ، خاموش ہوجاؤ ، کوئی آپ کے بارے میں غلط بات کرے ۔ خاموش ہوجاؤ۔ رونے کا دل کرے ۔ تو خاموش ہوجاؤ۔ اذیت ہاتھوں کو چھونے لگے تو خاموش ہوجاؤ۔ ماضی کے دکھ دن اوررات کے کسی بھی پہر آپ کو رلانے آئیں تو خاموش ہوجاؤ۔ کوئی آپ کو آپ کی برداشت کے آخری حد تک ستائے ۔تب بھی خاموش ہوجاؤ۔ قسم سے آپ کی اس خاموشی کا اجر آپ کو آپ کا ر ب ایسے عطا کرے گا۔ میں ہی کہیں رہ جائے گا۔ اور اس لمحے آپ کو احساس ہوگا کہ خاموش ہوجانا کس قدر بہتر ہے۔ گلا شکوہ کرنےسے ۔

رشتے نبھانا کوئی آسان کا م نہیں ۔ کئی بار اپنادل دکھا نا پڑتا ہے دوسروں کی خوشی کےلیے ۔ اپنے ظرف کا پیمانہ بلند کر نا پڑتا ہے۔ خطائیں معاف کرنی پڑتی ہیں۔ دل صاف کرنا پڑتا ہے۔ زندگی گزر جاتی ہے اعتماد بنانے میں۔

Leave a Comment