اگر کبھی زندگی سے تھک جاؤ اور پریشان حد سے بڑھ جائیں

زندگی

پاکستان ٹپس ! اس بات پر پریشان مت ہو کہ راستہ کہاں لے کر جائے گا، بلکہ اپنی توجہ اپنے پہلے قدم پر رکھو ۔ یہی تمہاری ذمہ داری ہے۔ اور یہی سب سے مشکل کا م ہے جب پہلا قدم اٹھا لیا تو پھر اس کے بعد ہر شے کو اپنے قدرتی انداز میں کام کرنے دو۔ اور تم دیکھو گے کہ راستہ خود بخود کھلتا جائےگا۔ بہاؤ کے ساتھ مت بہو، بلکہ خود ایک لہر بن جاؤ جس کاا پنا ایک بہاؤ ہوتا ہے۔ زندگی آسان نہیں ہوتی بس خود کو مضبوط بنانا پڑتاہے۔ صیحح وقت کبھی نہیں آتا

بس وقت کو صیحح بنانا پڑتا ہے۔ ان پر دھیان مت دیجیئے جو آپ کی پیٹھ پیچھے بات کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ آ پ ان سے دو قدم آگئے ہیں۔ اتنے قابل توضرور بنو کہ مذاق اڑانے والوں کی بولتی ہمیشہ کےلیے بند ہوجائے۔ برتن خالی ہو تو یہ مت سمجھنا کہ مانگنے چلا ہے۔ ہوسکتا ہےسب کچھ بانٹ کرآیا ہو۔ جو شخص تمہاری باتوں کو غور سے نہ سنے اسے سننے کی تکلیف نہ دو۔ مشکل حالات سے لڑو لوگوں کی فکر کیے بنا۔ ترقی کا راز محنت مزدوری ہے۔ جس کی کامیابی کو لو گ روک نہیں پاتے اس کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں لوگ۔ اگر آپ کوشش کرنےسے ڈرتے ہیں توآپ کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔ کبھی جو زندگی سے تھک جاؤ تو یاد رکھو ! کسی کو کان وکان خبر نہ ہونے دینا اپنے رب کے حضور سب بیان کرنا ٹوٹے دل اورآنسو کی قدر صرف اس کے ہاں ہے۔

باقی لوگ تو سب تماشائی ہیں۔ کبھی کبھی انسان بہت تھک جاتا ہے مایوس نہیں ہوتا، شکو ہ نہیں کرتا، مگر تھک جاتا ہے۔ محبت کے بہتے سے رنگ ہوتے ہیں لیکن محبت کا سب سے زیادہ خوبصورت رنگ عزت کا ہوتا ہے۔ 0.1 کبھی کبھی ہمیں اچھائی ہمیں ہی آن نوچنے لگتی ہے ۔ تب ایک بار تو من میں خواہش جاگ اٹھتی ہے کہ کاش ہم بھی برے ہوتے تو اچھا ہوتا۔ عورت کی اتنی وفا کافی نہیں وہ تمہارے سات جنت تک کے خواب دیکھتی ہے۔ جبکہ تم اسے پہلو میں بٹھا کر تین بیویوں کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہو۔ کسی کو معاف کرنے کے لیے اس کے روح کے نکلنے کا انتظار نہ کریں۔ جب انسان خود کے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تو وہ دوسرے کو بدعائیں دینا شروع کردیتا ہے ۔ اور میرے خیال میں یہ بزدلی کی انتہاء ہے۔ سبھی سمجھتے رہے کہ عورت معشوق ہے صرف شاہ کو معلو م تھا کہ عورت عاشق ہے اس لیے شاہ لطیف نے لکھا کہ عورت عشق کی استاد ہے۔ کیسا لگتا ہے ؟

جب آپ اپنی پریشانیوں اور مشکلات کی دلد ل میں دھنستے چلے جارہے ہو۔ اور جس شخص کو آپ نے اپنا سہارا چنا ہو۔ وہ ٹھیک اسی وقت اپنے اردگرد انا کی دیوار مضبوط کرنے میں مصروف ہو اور آپ کی طرف دیکھے بھی نا۔ سب کچھ ٹھیک ہوتے ہوتے پھر سب خراب کیوں ہوجاتا ہے ؟ جب مایوس ہونے لگیں تو امید دلائی جاتی ہے اور امید یں لگا لی جائیں تو توڑ دی جاتی ہیں۔ خدا ترسی یہی ہے کہ انسان جس تکلیف اور مصیبت سے خود گزرے ، اسے دوسروں پر مسلط ہرگز نہ کرے ۔ یہی انسانیت کی معراج ہےاور یہی اہل ایمان کی طرز زندگی ہونی چاہیے ۔ سخت رویے بات تو منو ا دیتے ہیں مگر دلو ں میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ جب رہنا ساتھ ہو تو دونوں روئیوں میں لچک ہونی چاہیے کہ کچھ منوا لیا جائے اور کچھ مان گئے ۔

یہ ہی مثبت رویہ رشتوں میں تازگی کو برقرار رکھتا ہے کیونکہ جہاں انا ہو وہاں صرف پچھتاوا اور تلخیاں ہوتی ہیں۔

Leave a Comment