شادی سے قبل کنواری لڑکیاں یہ ایک کام کرنا ہرگز مت بھولیں ورنہ بہت تکلیف ہو سکتی ہے

شادی سے

پاکستان ٹپس ! شادی میں خوبصورت نظر کسے پسند نہیں اور اگر شادی اپنی ہو تو ایسے میں دلہن کی پریشان دوچند ہوجاتی ہے۔شادی کی تیاری دلہا اور دلہن دونوں کے لیے بہت بڑے درد سر سے کم نہیں ہوتی مگر لڑکیوں پر اچھا نظر آنے کا تناؤ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کاموازنہ ماضی کی دلہنوں (رشتے داروں) سے کیا جاتا ہے۔ اور پھر شادی کی تیاریاں کئی ماہ پہلے شروع ہوجاتی ہیں اور اس ہنگامے میں لڑکیاں اکثر اپنا خیال رکھنے کو ہی فراموش کردیتی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں شادیوں کا سیزن عروج پر ہے اور صاف ظاہر ہے کہ دلہنیں اس تقریب میں خوبصورت نظر آنا چاہتی ہیں۔ تو ان چند سادہ اصولوں کو اپنا کر آپ اپنی اس خواہش کو پوری کرسکتی ہیں۔ جلد کی نمی کا خیال رکھنا مت بھولیں سردیاں جلد کے لیے کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوتیں، سرد موسم اور خشک ہوا یا ہوا میں کم نمی، جلد کو خشک اور بے جان کرنے والے عناصر ہیں۔ اگر آپ خشک جلد کا آسانی سے شکار ہوجاتی ہیں تو اپنی جلد کے مطابق اچھے موئسچرائزر کا انتخاب کریں، اس کے علاوہ گھر میں بھی ایسے جلد کو نمی دینے والے ماسک تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شہد، دہی، زیتون ، بادام کا تیل،

کیلے اور ایلو ویرا سے ماسک تیار کرکے جلد کو نرم و ملائم اور ہموار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ سونے سے پہلے میک اپ اتارنا کبھی مت بھولیں اور ہائیڈریٹ کریم لگائیں جس سے جلد کو غذائیت ملتی ہے۔ مناسب مقدار میں پانی اور صحت بخش غذا کا استعمال صحت مند رہنے، جلد کو جگمگانے کے لیے مناسب مقدار میں پانی پینا بہت ضروری ہے کیونکہ جسم ہائیڈریٹ ہوگا تو وہ زہریلے مواد کو خارج کردے گا، جو جلد کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی طرح صحت بخش غذا کا استعمال بھی بہت ضروری ہے۔ خوبصورت مسکراہٹ کے لیے سردیوں میں ہونٹ جلد پھٹ جاتے ہیں، اس سے بچنے کے لیے ہونٹ کو گیلا کر کے ان پر انگلیوں سے نرمی سے مساج کریں، اس کے بعد لپ بام یا کریم کا استعمال کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ مناسب نیند نیند اپنے اپنی جلد

کو دینے والے بہترین انعامات میں سے ایک ہے، نیند کے دوران ہمارا جسم اپنے اندرونی نظام کی مرمت کرتا ہے جس میں جلد بھی شامل ہے، گہری سانسیں لینا اور مراقبہ وغیرہ بھی اس کے لیے فائدہ مند ہے۔ نیند کی کمی آنکھوں کے گرد گہرے حلقوں کا باعث بھی بنتی ہے جو دلہن کے چہرے پر کسی طور پر اچھے نہیں لگتے۔

Leave a Comment