پاکستانی تیار ہوجائیں، پندرہ سال کی ریکارڈ توڑ برف باری کے امکانات ٗ بارشوں کا سلسلہ کس تاریخ تک جاری رہے گا

پاکستان نیوز! محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کےپہاڑی علاقوں میں دس سے پندرہ سال کی ریکارڈ توڑ برف باری کے امکانات کے ساتھ ملک بھر میں بارشوں اور ژالہ باری کا سلسلہ دس تاریخ تک رہنے کا امکان ہے۔دوسری جانب مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 16 سے 19 افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

مری کی صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم کے ذرائع کے مطابق شہر میں 1 لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کرکے چلے گئے۔کنٹرول روم ذرائع کے مطابق مری میں رات سے بجلی کی فراہمی بند ہے، گاڑیاں سڑکوں پر ہونےکی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، ہیوی مشینری سے برف کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مری میں گاڑیوں میں لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں اور گاڑیوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے سامان بھی نہیں ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رات سے ایک ہزار گاڑیاں مری میں پھنسی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مری میں گاڑیوں میں 16 سے 19 افراد کی گاڑیوں میں اموات ہوئی ہیں۔شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مری میں ایف سی اور رینجرز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے،

اس کے علاوہ پاک فوج کے دستے بھی طلب کر لیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔علاوہ ازیں سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے مری میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومتی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہ سانحہ ہوا ،سب کو پتہ تھا حکومتی ذمہ داران اعلان کررہے تھے ایک لاکھ گاڑیاں مری پہنچ گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی ذمہ داران نے عوام کو سہولیات اور ایمرجنسی مدد کے لیے کوئی کام نہیں کیا ،لوگ سڑکوں پر مررہے تھے انتظامیہ اور ریسیکو سروسز کہاں تھیں ؟ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں