مرد آسانی سے کسی عورت کو نہیں چھوڑ سکتا اور عورت مرد کی سب سے

پاکستان ٹپس ! مرد وفا چاہتا ہے اور یہ اس کا دائمی حق ہے۔ میں اس محبت پر یقین نہیں کرتا جس کی ابتداء مرد کی طرف سے ہو۔ شوہروں کواپنے قابو میں کرنے کے لیے و ظائف یا تعو یذ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان سے جڑے رشتوں کا احترام کرنا شروع کر دیں۔ وہ بن مانگے پوری دنیا آپ پر قربان کردینگے۔ اور آپ کی ہر جائز ضرورت کا خیال رکھیں گے۔ اکثر خواتین اپنے شوہر کے خلاف کالے علم کا عمل کرواتی ہیں جس جس سے وقتی طور پر انا کی تسکین

کا فائدہ ہوتا ہے۔لیکن ا س کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ عورت دماغ والوں کے لیے مکار اور احساس والوں کے لیے شاہکار ہوتی ہے عورت کہ بارے میں گ ندی رائے ہمیشہ دماغ والے ہی قائم کرتے ہیںاحساس والے تو عورت کو اللہ کا بہترین تحفہ سمجھتے ہیں اس لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں عورت دماغ سے نہیں احساس سے سمجھ آتی ہے۔عورت کسی غیر محرم کے ساتھ غلط رستے پرتب چلتی ہے جب اس کےاپنے محر م رشتے اس کی قدر اور عزت نہیں کرتے ۔سرکاری ڈیوٹی کرنےوالے کو پچیس سال بعد پنشن مل جاتی ہے اور پردیس میں رہنے والے کو پچیس سال بعد بوڑھی بیوی اور لو فر اولاد۔ہر مرد کو عورت کے کردار کی فکر ہوتی ہے۔ اگر اتنی ہی فکر اپنے کردار کی بھی کرلیتا تو آج کتنی عورتیں بد کردار کہلانے سے بچ جاتیں۔ مرد کی محبت کو ہمیشہ جوان رکھتی ہے

جبکہ مرد سے ملی ناقدری عورت کو جوان عمری میں بد صورت اور بد مزاج کردیتی ہے۔عورت کے سب رنگ مرد سے ہی ہوتے ہیں۔ عورت ان پڑھ ہو یا ڈگری ہولڈر ۔ مرد کی تقسیم برداشت نہیں کرتی۔مرد پہلے تو آسانی سے کسی عورت کو چھوڑتا نہیں کیونکہ عورت مرد کے نفس کی کمزوری ہے اور اگر یہ کسی عورت کو چھوڑ دے او ر چھوڑنے کے بعد دوبارہ اسی عورت کی زندگی میں آجائے یا آنے کی کوشش کرے تو عورت کو سمجھ جانا چاہیے اب کی بار اس کے ساتھ یہ مرد پہلے سے بڑا دھوکہ کرے گا۔ اگر تو آپ فالتو ہیں تو بے شک ایسے مرد کو دوبارہ موقع دے دو اگر آپ کی کوئی قیمت ہے تو ایسے مرد کے منہ پر تھوک کر آگے بڑھ جائیں ۔ یہی سمجھداری کا تقاضا ہے ورنہ دوسرا دھوکہ آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے مرد کو نکاح کے بعد بیوی

سے خود ہی محبت ہو جاتی ہے۔ و ہ دوسروں کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ عورت وہ ہستی ہے جو کسی ایک دن کی محتاج نہیں ۔اگر آپ معاشرے کا ایک مرد ہو کر حوا کی بیٹی کو کچھ دے سکتے ہیں تو وہ ہے عزت قدر حق حفاظت اسلام عورت کے حقوق کسی ایک دن کے لیے نہیں تمام عمر کے لیے دینے کی تاکید کرتا ہے

Leave a Comment