اہلِ جنت کی عورتیں کیسی ہوں گی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں

اہلِ جنت

پاکستان ٹپس !  اہلِ جنت کی عورتیں کیسی ہوں گی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً، فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا، عُرُبًا أَتْرَابًا، لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ) (الواقعۃ: 35-38(“ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔ اور ہم نے انھیں کنواریاں بنا دیا ہے، محبت والی اور ہم عمر ہیں۔ دائیں ہاتھ والوں کے لیے ہیں۔” امام بغوی نے اپنی تفسیر میں فرمان الہٰی: (فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا) “ہم نے انھیں کنواریاں بنا دیا ہے” کے متعلق ذکر کیا ہے کہ دنیا میں بوڑھی خواتین

کو بھی اللہ تعالیٰ از سرِ نو پیدا کرےگا اور جب بھی ان کے خاوند ان کے پاس آئیں گے تو وہ انھیںہر مرتبہ کنواریاں ہی پائیں گے۔ جبکہ حافظ ابن کثیر فرمان الہٰی: (إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً) کے متعلق کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم (یعنی اللہ تعالیٰ) نے انھیں جب دوسری مرتبہ پیدا کیا تو وہ بڑھاپے سے جوانی کو لوٹ آئیں، پھر وہ کنواری بن گئیں۔ اور وہ اپنے خاوندوں کو نہایت محبوب ہوں گی، ان کی فرمانبردار اور خوبصورت گفتگو کرنے والی ہوں گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وَ لَو أَنَّ إِمرَاَةً مِن أَھلِ الجَنَّةِ إِطَّلَعَت إِلٰی أَھلِ الأَرضِ لَأَضَائت مَا بَینَہُمَا وَلَمَلَئَتہُ رِیحًا، وَلَنَصِیفُہَا عَلٰی رَأسِہَا خَیرٌ مِنَ الدُّنیَا وَمَا فِیہَا) (رواہ البخاری: 2796) “اور اگر اہل جنت کی ایک عورت اہل زمیں پر جھانک لے تو وہ زمین وآسمان کے

درمیان پورے خلا کو روشنی اور خوشبو سے بھر دے۔ اور اس کے سر کا دوپٹہ پوری دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے۔” اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”اہل جنت میں سے ہر ایک کے لیے موٹی آنکھوں والی حوروں سے دو بیویاں ہوں گی۔ ہر بیوی پر ستر زیورات ہوں گے۔ اوراس کی پنڈلیوں کا گودا اس کے گوشت اور زیورات کے پیچھے سے نظر آرہا ہوگا، جیسا کہ سرخ رنگ کا مشروب سفید شیشے میں نظر آتا ہے۔” (أخرجہ الطبرانی وقال الألبانی: صحیح لغیرہ)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “بے شک اہل جنت کی بیویاں اپنے خاوندوں کے لیے اس قدر خوبصورت آواز میں گائیں گی کہ اس جیسی آواز کسی نے نہیں سنی۔ اور ان کے گانوں میں سے ایک گانا یہ بھی ہوگا:نَحنُ الخَیرَاتُ الحِسَانُ أَزوَاجُ قَومٍ کِرَامٍ یَنظُرنَ بِقُرَّةِ أَعیَانٍ

اسی طرح وہ یہ بھی گائیں گے: نَحنُ الخَالِدَاتُ فَلاَ نَمتنَہ نَحنُ الآمِنَاتُ فَلاَ نَخَفنَہ نَحنُ المُقِیمَاتُ فَلاَ نَظعَنَہ (رواہ الطبرانی فی الصغیر والأوسط وصححہ الألبانی) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “بےشک جنت میں ایک نہر ہوگی جو اتنی ہی لمبی ہوگی جتنی لمبی جنت ہوگی۔ اس کے دونوں کناروں پر نوجوان لڑکیاں آمنے سامنے کھڑی ہوں گی اور وہ خوبصورت آواز میں گائیں گی جسے تمام لوگ سنیں گے۔ اور وہ یہ محسوس کریں گے کہ جتنی لذت ان کی آواز سننے سے آ رہی ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں ہے۔ لوگوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ گاتے ہوئے کیا کہیں گی: تو انھوں نے جواب دیا: وہ اِن شاء اللہ تسبیح، تحمید، تقدیس اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے ساتھ گائیں گی۔” (رواہ البیھقی موقوفاً وصححہ الألبانی)

Leave a Comment