اس عورت پر ہرگز بھروسہ مت کرو جو! حکیم لقمان کا فرمان

اس عورت

پاکستان ٹپس ! قرآن مجید سے حکیم لقمان نامی ایک شخصیت کا وجود ثابت ہے جسے اللہ نے حکمت عطاکی اور کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ قرآن مجید کی ایک سورۃ کا نام سورۃ لقمان ہے جس میں حکیم لقمان کے نسب اور خاندان کی بابت تو کوئی ذکر نہیں کیا گیا البتہ اس میں حکیم لقمان کے حکیمانہ معقولات کا تذکرہ ضرور ہے۔تاہم قدیم تواریخ اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اس نام کا ایک شخص سرزمین عرب پر موجود تھا البتہ اس کی شخصیت اور نسب کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

قصص القرآن میں حکیم لقمان کا زمانہ 3,000قبل مسیح قرار دیا گیا ہے لیکن بعض مفسرین ومورخین انہیں حضرت دائود علیہ السلام کا مصاحب بتاتے ہیں اس طرح ان کا زمانہ 1,100قبل مسیح کے لگ بھگ بنتا ہے۔ بہرطور اہل عرب ان کے حالات اور خاندان ونسب سے متعلق اختلاف کے باوجود لقمان یا حکیم لقمان کو ایک مشہور شخصیت تسلیم کرتے ہیں اور صحیفہ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاریخ قدیم میں لقمان نام کی ایک اور شخصیت کا پتا چلتا ہے جو عادثانیہ میں ایک نیک بادشاہ گزرا ہے اور خالص عرب نژاد ہے۔ ابن جریر، ابن کثیر اور سہیلی جیسے مستند مورخین کی رائے ہے کہ مشہور لقمان حکیم، افریقی النسل تھے اور عرب میں ان کی آمد بحیثیت غلام ہوئی تھی۔ ابن کثیر کے بقول لقمان نبی نہیں تھے

اور نہ ان پر وحی نازل ہوئی۔ قرآن مجید کی کسی سورت میں بھی ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں جو لقمان کے نبی یا رسول ہونے پر دلالت کرتا ہو۔ البتہ ابن اسحاق نے وہب بن منبہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”وہ نبی تھے، مگر رسول نہیں تھے” لیکن بیشتر علمائے سیر، ابن اسحاق کے اس قول سے اتفاق نہیں کرتے۔ روض الانف اور تفسیر ابن کثیر میں لقمان کا شجرہ نسب لقمان بن عنقایا ثارابن سندون درج ہے۔ ان کتب کے مطابق وہ سوڈان کے نوبی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پستہ قد، بھاری بدن، سیاہ رنگ، ہونٹ موٹے اور ہاتھ پیر بھدے تھے مگر وہ بلا کے نیک، عابد وزاہد، صاحب حکمت اور دانا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ تاریخ ابن کثیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے

کہ لقمان نجاری کا پیشہ کرتے تھے البتہ سعید بن مسیب کے بقول لقمان، مصری سوڈانی تھے اور ان کے ہونٹ بہت موٹے تھے۔ اللہ نے انہیں اگرچہ نبوت عطا نہیں کی مگر حکمت ودانائی سے وافر حصہ دیا۔جس نعمت میں ناشکری ہے ، وہ ہمیشہ نہیں رہ سکتی!!کسی بھی محفل میں ہمارے نشست و برخاست اور گفتگو سے حاضرین کی عزت بڑھنا چاہیے ، یہ نہ ہونا چاہیے کہ ہمارے کسی فعل سے کسی کا دل دکھ جائے۔اصلاح نفس کی ہمہ وقت کوشش کرتے رہو، تاکہ تمہارے اندر اچھی صفات پیدا ہوں۔جس بات کا تمہیں پورا علم نہ ہو اپنی زبان سے مت نکالو جس قدر ممکن ہو لوگوں کے ہجوم سے بچو، اس طرح تمہارا دل سلامت رہے گا اور نفس پاکیزہ رہے گا اورجسم کو آرام ملے گا۔ جو بات تم اپنے دشمن سے چھپانا چاہتے ہو اپنے دوست سے بھی مت کہو، ہوسکتا ہے

کہ وہ بھی کسی روز تمہارا دشمن نہ ہوجائے ۔ جس طرح تم کسی کو اپنے حسن واخلاق سے دوست بنا سکتے ہو اسی طرح بد اخلاقی سے اپنے دوستوں کے مخالف بھی بن سکتے ہو۔ جوانی میں ایسے کام کرو جو دین اور دنیا دونوں میں مفید ثابت ہوں جس طرح آگ کا ایک ذرہ عالم کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک ذرہ عالم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک گلہ انسان کی حالت تباہ کردیتا ہے۔ خبردار! اس عورت پر ہرگز بھروسہ مت کرو جو کند ذہن اور بے شعور ہو۔ بدگمانی کو اپنے اوپر غالب مت کرو، کہ تجھے دنیا میں کوئی ہمدرد نہ مل سکے۔ہر قسم ہر طبقہ کے لوگوں کو پہچانو اور ان کے ساتھ مناسب برتاؤ کرو۔ اصلاح پسند اور عقل مند لوگوں سے مشاورت کرتے رہو۔ نیکی کر اور مخلوق کو طریقہ نیکی سیکھا۔ بدی سے دور رہے اورمخلوق کو بھی بدی سے دور رہنے کی کوشش کر۔

Leave a Comment