بغل کے بال صاف کرنے کا سُنت طریقہ،ریزر کا ہرگز استعمال نہ کریں اس سے کیا نقصان ہوتا ہے،جان لیں!

بغل کے بال

پاکستان ٹپس! زیر ناف اور بغل کے بال مرد اور عورت ٹریمر سے صاف کرسکتے ہیں؟ جزاک اللہ لیکن بغل کے بالوں کو مطلقا ، اسی طرح عورتوں کے لیے زیر ناف کے بالوں کو چٹکی یا چمٹی سے اکھیڑنا افضل ہے؛ ہاں مرد کے لیے زیر ناف کے بالوں کو استرہ وغیرہ کے ذریعے جڑ سے صاف کرنا بہتر واولی ہے۔)(قولہ ویستحب حلق عانتہ) قال فی الہندیة ویبتدء من تحت السرة ولوعالج بالنورة یجوز کذا فی الغرائب ، وفی الأشباہ:

والسنة فی عانة المرأة النتف (قولہ وتنظیف بدنہ) بنحو إزالة الشعر من إبطیہ ، ویجوز فیہ الحلق والنتف أولی.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 9/ 583، کتاب الحظر والإباحة ، ط: زکریا،دیوبند)واللہ تعالیٰ اعلمہفتہ میں ایک بار ان حصّوں کے بالوں کی صفائی کرنی چاہیئے اور سب سے بہتر دن جمعہ کا ہے . ان بالوں کی صفائی میں 15 دن تک تاخیر جائز ہے اور 40 دن گزرنا گناہ ہے بغل اور شرم گاہ کے بال کترانا فطری کاموں میں شامل ہیں ۔اور اسلام نے اسکی بہت تاکید کی ہے. رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:”یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرت میں سے ہیں: 1 ختنہ 2. زیر ناف بال صاف کرنا 3. مونچوں کا کاٹنا4 ناخن کاٹنا 55. بغل کے بالوں کی صفائی” نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ ہر ہفتے بالوں کی صفائی کرتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہے کہ “رسول اللہ ﷺ مونچوں کے کم کرنے، ناخن، بغل اور شرمگاہ کے بالوں کی صفائی کے 40 دن مقرر کئے ہیں کہ انکو اس سے زیادہ نہیں چھوڑنے. ”بغل کے بالوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے. اسطرح کرنے سے بغل سے بدبو نہیں آئے گی اور اچھی طرح صفائی ہو جاتی ہے. اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو تو پھر کاٹا جائے۔(آج کل نوچنے کیلئے برقی مشین ملتی ہے جس سے نوچنا بہت آسان ہوتا ہے)مرد کیلئے زیر ناف بال استرے یا بلیڈ سے صاف کرنا بہتر ہے. مونڈھتے وقت ابتدا ناف کے نیچھے سے کرے اور پاؤڈر کریم وغیرہ کوئی بال صفا چیز لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے اور عورت کیلئے سنت یہ ہے کہ کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے بال ختم کرے، استرہ نہ لگائے

اپنی رائے کا اظہار کریں