پاکستان کی وہ نامور شخصیت جس کو خانہ کعبہ کی تعمیر نو میں بطور مزدور

پاکستان

پاکستان ٹپس ! خانہ کعبہ کی تعمیر ابتدائے عالم سے لے کے آج تک پانچ بار ہوچکی ہے۔ پہلی بار خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیه السلام نے فرمائی۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت جبریل علیه السلام کو حضرت آدم کے پاس تعمیر بیت اللہ کا حکم دے کر بھیجا اور جب حضرت آدم علیه السلام اس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالی نے حضرت آدم کو یہ حکم دیا کہ اس گھر کا طواف کرو اور یہ ارشاد ہوا کہ تم پہلے انسان ہو جس نے اس گھر کا

طواف کیا ہے اور یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے۔ کعبہ کی پہلی عمارت، طوفانِ نوح میں اس طرح تباہ ہوگئی کہ اس کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دوسری بار اللہ تعلی نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے لیے حضرت ابراھیم علیه السلام کو چنا جنہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کو تعمیر کیا۔ تیسری بارخانہ کعبہ کی تعمیر آپ ﷺ کی نبوت سے تقریبا پانچ سال پہلے ہوئی جب نبی کریم ﷺ کی عمر پینتیس برس تھی۔ یہ مرد کی عین شباب کی عمر کہلاتی ہے یعنی کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو آپ ﷺ عین جوانی کے دور میں تھے۔ اس وقت قریش کو خانہ کعبہ کو دوبارہ سے تعمیر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ خانہ کعبہ کے اندر پانی جمع ہونے کی وجہ سے عمارت بہت پرانی اور بوسیدہ ہوگئی تھی۔

حضرت ابراھیم علیه السلام کے زمانے میں کعبے کی تعمیر پتھروں سے ہوئی تھی لیکن قریش کو پتھروں سے تعمیر کرنی نہیں آتی تھی، ان کے گھر مٹی کے بنے ہوئے تھے اور ان کو مٹی ہی سے گھر بنانے آتے تھے۔ تومسئلہ یہ کھڑا ہوا کہ کعبہ تو پتھروں کا بنا ہوا تھا اور ان کو پتھروں سے تعمیر کرنی نہیں آتی تھی تو وہ کعبے کو دوبارہ کیسے تعمیر کرتے۔ لہذا دار الندوی میں جو کہ قریش کا پارلیمنٹ ہاؤس تھا، مشاورت ہوئی اور یہ فیصلہ طے پایہ کہ خانہ کعبہ کی تعمیر دوبارہ کرنی چاہیے بالاتفاق یہ فیصلہ بھی ہوا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کیلیے کسی قسم کا بھی حرام کا پیسہ نہیں لگے گا، بے شک اپنے گھروں کو کیوں نہ بیچنا پڑے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شرکیہ عقیدے کے باوجود انہوں نے یہ طے کیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں ہم سود کا پیسہ نہیں استعمال کریں گے۔

اب اگلا سوال یہ پیدا ہوا کہ جب سود کا پیسہ استعمال نہیں ہو گا تو اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ لیکن اللہ سبحانه و تعالی نے ان کے لیے انتظام کر رکھا تھا۔ ایک اور مشکل یہ پیدا ہوئی کہ جب خانہ کعبہ کو پتھر سے تعمیر کیا جائے گا تو اس کی چھت اونچی کرنی پڑے گی جس کے لیے لکڑی کی ضرورت ہو گی جبکہ ان کے پاس لکڑی کا انتظام بھی نہیں تھا اور یہ لوگ لکڑی کا کام بھی نہیں جانتے تھے۔ اب اتفاق ایسا ہوا کہ جدہ کے ساحل پر ایک جہاز آکر ٹکرا گیا، قریش کو جیسے ہی خبر ملی تو ان کے کچھ لوگ وہاں گئے اور جہاز کی لکڑی خانہ کعبہ کی تعمیر کے لئے لے آئے۔ اس طرح لکڑی کا انتظام بھی ہوگیا اور قریش کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر اللہ تعالی نے لکڑی کا انتظام فرمادیا تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ ان کے گھر کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

اسی طرح اللہ تعالی نے ان کی طرف ایک قبطی کو بھیج دیا جو کہ مزدور اور مستری تھا اور اس کو لکڑی کا کام بھی آتا تھا. قبطی ایک غلام قوم کے باشندے کو کہا جاتا تھا، یہ قوم حضرت موسی علیه السلام کے دور میں تھی اب مکہ کے لوگوں کے دلوں میں یہ خوف بیٹھا ہوا تھا کہ جب کعبہ کو گرانے کے لیے ابراہا ھاتھیوں کا لشکر لے کر آیا تھا تو اس کے ساتھ اللہ تعالی نے کیا معاملہ کیا۔ ان کی نیت بالکل پاک اور صاف تھی لیکن بہرحال کعبہ کی تعمیر کے لیے اسے گرانا ضروری تھا تو ان کو یہ خیال پیش آیا کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی ہم سے ناراض ہوجائیں۔ بہرحال انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کا سامان جمع کرنا شروع کیا تو اس میں کافی پیسہ لگ گیا اور پیسے کم پڑنے پر یہ فیصلہ ہوا کہ خانہ کعبہ کے رقبے کو کچھ کم کر دیا جائے۔ ولید بن مغیرہ مکہ کا بہت

بڑا سردار، مشہور صحابی خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنه کا باپ تھا اور مسلمانوں کا بہت بڑا دشمن تھا۔ یہ ایک بہت بوڑھا آدمی تھا۔ یہ وہی ولید بن مغیرہ ہے جس کے گیارہ بیٹے تھے اور جس کا ذکر سورۃ مدثر میں آتا ہے کہ گیارہ کے گیارہ بیٹے اس کے ساتھ مکہ میں رہتے تھے اور اس کو اس بات پر بہت فخر تھا کہ میرے اتنے بیٹے ہیں اور سارے میرے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی شخص ولید بن مغیرہ نے کعبہ کو توڑنا شروع کیا اور کہا کہ اگر تو اللہ تعالی کو کعبہ کا توڑنا منظور نہیں ہوا تو یقینًا میرے اوپر کوئی نہ کوئی آفت آجائے گی۔ لہزا اگر میں مر جاؤں تو اس میں کوئ حرج نہیں کیونکہ میں تو بوڑھا ہو چکا ہوں اور میں نے جو زندگی گزارنی تھی گزار لی ہے۔ چنانچہ سب لوگ اس کی بات پر راضی ہوگئے۔ اب جب اس نے کعبہ کا کچھ حصہ توڑا تو اندر ایک بہت بڑا اثدھا

بیٹھا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے سوچا کہ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی نہیں چاہتے کہ ہم کعبہ کو توڑ کر نیا کعبہ بنائں۔ تو ان کے کسی بزرگ نے ان کو مشورہ دیا کہ تم لوگ اللہ تعالی سے دعا کرو اور اگر اللہ تعالی کو یہ منظور ہوگا تو اللہ تعالی خود سب کچھہ آسان کر دیں گے۔ اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے رات بھر سب لوگوں نے مل کر دعا کی اور صبح پورے قریش، مطاف میں جمع ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پرندہ اجیاد کی طرف سے اڑتا ہوا آیا اور آکر سانپ کو اٹھا کر لے گیا۔ ولید بن مغیرہ نے اپنی مدد کے لیے قریشِ مکہ کو بلایا تو کوئی بھی اس کی مدد کیلیے نہیں آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ ہاتھیوں والا قصہ بھولتا نہیں ہے۔ تم ایسا کرو پہلے اپنی اولاد کو اپنے ساتھ لگاؤ تاکہ اگر کوئی وبال یا تباہی آنی ہو تو تمہارے اوپر آئے اور ہمارے اوپر نہ آئے،

کیونکہ خانہ کعبہ کو توڑنے کا فیصلہ تم نے ہی کیا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی اولاد کو بلایا اور ان سب نے مل کر کعبہ کو توڑنا شروع کیا۔ جب کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو پھر باقی تمام قریش کے لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے بھی اس کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کو توڑنا شروع کیا۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ حجرِ اسود جو کہ ایک بہت مقدس پتھر تھا، اس کو کونسا قبیلہ لگائے گا۔ عرب کے اندر دشمنی بہت زیادہ تھی اور ہر چھوٹی بات پر لڑائی بہت جلد ہو جایا کرتی تھی تو اس معاملے میں بھی یہی ہوا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ پر لگانے کی ذمہ داری کے مسئلے پر لڑائی شروع ہو گئی۔ قریش کے ایک بہت ہی بزرگ اور حکیم انسان نے یہ مشورہ دیا کہ جو صبح سب سے پہلے حرم میں آئے گا وہی حجر اسود کو لگائے گا۔ سب نے اس رائے کو پسند کیا اور جب صبح ہوئی

تو تمام لوگ حرم پہنچے اور کیا دیکھتے ہیں کہ سب سے پہلے آنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم تھے۔ آپ ﷺ کو قریش کے لوگ ویسے ہی صادق اور امین مانتے تھے، لہاذا انہوں نے یہ کام آپ ﷺ کے سپرد کر دیا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے حجر اسود کو ایک چادر میں ڈالا اور جتنے بھی قبیلے تھے، سب نے اس چادر کے کونوں کو پکڑا اور پھر آخر میں آپ ﷺ نے حجر اسود کو خود اٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کردیا۔ سارے قبیلے بھی اس بات سے خوش ہو گئے اور ایک بہت بڑے جھگڑے کے بغیر یہ معاملہ حل ہوگیا۔ اس طرح تین دفعہ بیت اللہ یعنی کعبہ کو تعمیر کیا گیا۔ چوتھی دفعہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنه نے اپنے زمانہ خلافت میں بیت اللہ کو شہید کرکے دوبارہ تعمیر کیا۔ اور پانچویں بار کعبہ کی تعمیر ظالم حجاج بن یوسف نے کی۔ اس طرح بیت اللہ کی تعمیر پانچ مرتبہ کی گئی

Leave a Comment