اللہ پاک کا ایک نام صرف 10منٹ پڑھیں اور پھر سو جائیں ایسا عمل جس کے کرنے

اللہ پاک

اللّه پاک کا یہ نام گرامی آپ نے سونے سے پہلے صرف ١٠ منٹ پڑھ کر پھر سونا ہے انشاءالله اپ کی ضروریات کو اللہ پورا فرما دے گا اگر آپ کی جیب خالی ہے تو آپ کی جیب میں دولت آ جائے گی اگر آپ کے گھر میں رزق کی کمی ہے تو رزق کی کمی پوری ہو جائے گی اگر آپ بہت مجبور ہیں کوئی

آپ کی مدد نہیں کر رہا آپ کا ہاتھ بہت تنگ ہے تو سونے سے ١٠ منٹ پہلے یہ عمل کر لیںاللّه پاک کا یہ اسم مبارک یَامُعْطِیْ (اے ہمیشہ دینے والے) پورے یقین سے پڑھنا ہے انشاءالله آپ کی جس طرح کی ضرورت ہے پوری ہو جائے گی آج کل کوئی انسان مدد نہیں کرتا اس لیے آپ نے پورے یقین سے یہ عمل کرنا ہے اگر آپ مالی طور پر بہت زیادہ تنگ ہیں انشاءاللہ آپ کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔

نبی کریم ﷺ سونے سے پہلے بہت سی دعائیں پڑھا کرتے تھےآئیں

سونے سے قبل پڑھنے کی نبی کریم ﷺ سے بہت سی دعائیں ثابت ہیں۔ جو بہت ہی عظیم معنی اور مفہوم پر مشتمل ہیں۔ ان میں توحید کی تمام قسموں کا ذکر ہے، اللہ کی حمد وثنا بیان کی گی ہے، اس کے سامنے بندے کی محتاجی کااظہار ہے، ان میں اللہ سے مغفرت، توبہ اورآخرت کے عذاب سے نجات کا سوال کیا گیاہے۔ ان میں نفس اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر معانی ان میں ذکر ہیں۔ لہذا سونے سے قبل جتنی دعائیں

ممکن ہو پڑھ لینا چاہیے۔ یہ دعائیں دو قسم کی ہیں: (۱) کچھ تو قرآنی آیات اور سورتیں ہیں ۔ (۲) اور کچھ عام مسنون دعائیں ہیں ۔ پہلی قسم: قرآنی آیاتاور سورتیں۔ آیة الکرسی: ﴾ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۔ ﴿”جو شخص سوتے وقت آیة الکرسی پڑھ لے تو اللہ تعالی کی جانب سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہوتاہے جو اس کی حفاظت کرتا رہتاہے اور شیطان اس کے قریب تک نہیں آتا“ (بخاری ) سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے: (آمن الرسول سے آخر تک ) ( البقرة : ۵۸۲-۶۸۲)”جو شخص رات میں ان دونوں آیتوں کو پڑھ لے تو یہ اس کے لیے(ہر شر سے بچنے کے لئے) کافی ہیں“۔ (بخاری ) ( یعنی شیطان اوردیگر آفتوں سے بچنے کے لیے کافی ہے نیز تہجد سے بھی کفایت کرجاتے ہیں )(شرح مسلم نووی ) سورہ سجدہ اور سورہ تبارک پڑھے۔

(بخاری فی الادب المفرد :)۔ سورہ کافرون پڑھے اس لیے کہ اس میں شرک سے براءت کا اعلان ہے۔ (ابوداو د سورہ اخلاص اور معوذتین (یعنی قرآن کی آخری تین سورتیں) پڑھے: اپنے دونوں ہاتھوں کو جما کر ان میں پھونک دے اور ان سورتوں کو پڑھے، پھر جہاں تک ممکن ہو‘ اپنے سارے بدن پر پھیرلے؛ پہلے اپنے چہرے، سر اور بدن کے اگلے حصہ پر ( پھر بدن کے دیگر حصہ پر) پھیر لے، اس طرح تینوں سورتیں تین بار پڑھے اور تینوں بار بدن پر پھیرلے (بخاری ،مسلم)۔ حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہرسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں ایسے کلمات سکھاتا ہوں جو اگر تم سوتے وقت پڑھ لو تو اگر رات کو مر جاؤ گے تو فطرت اسلام پر مروگے اور اگر صبح ہوگی تو وہ بھی خیر پر ہوگی.

” اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،” اے اللہ میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور اپنا کام بھی تجھے سونپ دیا، رعب کی وجہ سے بھی اور تیرے ڈر سے بھی اور میں نے اپنی پیٹھ کو تیری طرف پناہ دی کیونکہ تجھ سے بھاگ کر نہ کہیں پناہ ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ۔ میں تیری بھیجی ہوئی کتاب پر ایمان لایا۔ * حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ اگر کوئی سونے لگے توہی کلمات اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ۔

اے اللہ مالک آسمانوں کے اور مالک زمین کے اور مالک بڑے عرش کے اور مالک ہمارے تورات انجیل اور قرآن کے پناہ مانگتا ہوں میں تیری ہر چیز کے شر سے جس کی پیشانی تو تھامے ہے. تو سب سے پہلےہے تیرے پہلے کوئی شئے نہیں تو سب کے بعد ہے تیرے بعد کوئی شئے نہیں تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی شئے نہیں تو باطن ہے تجھ سے ورے کوئی شئے نہیں ادا کردے قرض ہمارا اور امیر کردے ہم کو محتاجی دور کرکے. ( مسلم ) * حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیتے پھر فرماتے: ” اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ “. اے اللہ مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچائیے جس روز آپ اپنے بندوں کو اٹھائنگے۔ ( ابو داود ) * حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سوتے

تو فرماتے : ” اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوت” اے اللہ میں آپ کے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور آپ کے نام کے ساتھ مرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو فرماتے: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ” تمام تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ( ابو داود )

Leave a Comment