قربانی کا گ وشت فریزر میں رکھنے والے خبردار !امام علیؑنے فرمایا ،مزید جانیں

قربانی

پاکستان ٹپس ! امام علی ؑ کی خدمت میں ایک شخص آیا۔ اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کرنے لگا۔ یا علی ! عید قربان کے دن جو ہم جانور قربان کرتے ہیں۔ اگر اس کاگو شت ہم تقسیم نہ کریں۔ اور اپنے گھرو الوں اور اپنے لیے رکھ لیں۔ تو کیا یہ گن اہ تو نہیں ؟ بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؑ نے فرمایا: اے شخص ! یا درکھنا ، قربانی کے گ وشت میں سب سےپہلا حصہ غریبوں کا ہے۔ دوسرا حصہ تمہارےعزیز واقارب کا ہے تیسر احصہ تمہارا ہے

یا درکھنا جو انسان غریبوں کا حصہ کھالے۔ وہ ایسے ہے ۔ جیسے کوئی غریبوں کا حق کھاتا ہے۔ اللہ غریبوں کے حق کھانے والےپر لعنت پڑتا ہے اور جوانسان رشتے داروں کا حصہ کھالے۔ وہ ایسے ہیں۔ جیسے کوئی انسان رشتہ داروں سے دغا کرتا ہے اورللہ ایسے انسان پر رحمتیں اور اپنا فضل بند کردیتاہے۔ میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ قربانی کرنا اللہ کےلیے ہوتا ہے۔ وہ جانور جب تم خرید تے ہو تو وہ تمہار ا نہیں رہتا ۔ اللہ کا ہوجاتا ہے۔جو قربانی بھی کرے۔ اور قربانی کے گ وشت کو اپنی میراث سمجھ کر صرف اپنے لیے رکھ دیتا ہے نہ صرف اس کی قربانی قبول ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اللہ کے نزدیک اجر پاتا ہے ۔ یا درکھنا ! اس کی مثا ل ایک چ ور جیسی ہے۔ ایسا چ ور جو غریبوں کا حصہ چ ور ی کرتا ہو۔ یا رشتہ داروں کا حصہ کھاتا ہو۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے رسول کریم ﷺ نے قربانی والے دن فرمایا آج کے دن ہم سب سے پہلا کام نماز پڑھیں گے اس کے بعد قربانی کریں گے۔تو جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت پر عمل کیا اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کا جانور ذب ح کرلیا تو یہ ایسا گوش ت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کیلئے تیار کیا ہے اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ اپنی قربانی کا جانور پہلے ذب ح کرچکے تھے انہوں نے کہا میرے پاس جَزَعۃ (ایک سال کا دنبہ) ہے جو 2 دانت والے جانور سے بھی بہتر ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم اس کوذب ح کردو اور تمہارے بعد یہ کسی اور کیلئے درست نہیں ہوگا۔ حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا

اُن کے پاس ایک شخص نے کہا کہ نبی کریم ﷺ آپؓ سے سرگوشیوں میں کیا کہتے تھے۔ علی رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور فرمایا : رسول کریم ﷺ نے مجھے کوئی رازکی بات نہیں بتائی جسے میں نے اور لوگوں سے چھپایا ہو البتہ آپؐ نے مجھے 4 باتیں ارشاد فرمائی ہیں اس نے پوچھا اے امیر المومنین وہ کیا باتیں ہیں؟ تو حضرت علیؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے ۔جو شخص غیر اللہ کے لئے ذب ح کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور جو شخص زمین پر(حد بندی کے )نشانات کو مٹائے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے

Leave a Comment