”اللہ کا پسندیدہ ذکر“

ڈیلی کائنات ! بندوں پر اللہ تعالیٰ نے مختلف اقسام کی نعمتیں اور احسانات کیے جس کی بناء پر انہیں اکثر حالات میں تسبیح (سبحان اللہ کہنا) اور تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا) اور الحمد للہ کا بکثرت ذکر کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ذکر کرنے والے بہت زیادہ ثواب اور اچھے ٹھکانے والے بن سکیں۔بندوں کی سہولت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حد بندی بھی نہیں فرمائی۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کلمات کا ذکر بے وضوء، باوضوء اور جنبی آدمی بھی کرسکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر اسی طرح ممکن ہے کہ انسان بیٹھا ہوا لیٹا ہوا

اور کھڑا بھی ذکر کرتا رہے۔ ذکر الٰہی کی اہمیت بتاتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے بندوں پر جو بھی فرض لاگو کیا اس کی حد بندی بھی فرما دی اور عذر کی حالت میں اس کی سہولت بھی دے دی سوائے ذکر کے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو اس کی حد بندی کی اور نہ ہی اس کے چھوڑنے میں کسی قسم کا عذر قبول کیا مگر ان لوگوں کو معذور قرار دیا جو اس کے چھوڑنے پر بہت زیادہ ہی مجبور ہوں۔یعنی دن ہو یا رات، خشکی ہو یا تری، سفر ہو یا حضر، ذکر کرنے والا غنی ہو یا فقیر، بیمار ہو یا تندرست، چھپ کر کرے یا اعلانیہ کرے، ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ چنانچہ جب تم یہ کام کرلو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نچھاور کر دیں گے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ قرآن مجید کے بیشتر مقامات میں ذکر الٰہی کا تذکرہ اور اس سے غفلت کی نہی موجود ہے اور ذکر کرنے والوں کی مدح و ستائش اور فلاح کا مدار ذکر

اللہ کی کثرت کو قرار دیا گیا ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے۔ اعمال صالحہ کا اختتام بھی ذکر اللہ پر ہی ہوتا ہے مثلاً روزہ، حج، نماز، جمعہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات سے نفع اٹھانے والے ذاکرین کو خصوصی طور پر اولو الالباب (عقل والے) کہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے سب اعمال کا ساتھی اور روح قرار دیا یعنی نماز، روزہ، حج وغیرہ میں اللہ کا ذکر ہے بلکہ حج، تلبیہ اور حج کے مقصد کی روح اللہ کی یاد اور ذکر ہے۔ جہاد کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر پیوستہ ہے۔ اس لیے برابر کے حریف کا سامنا اور دشمن سے مقابلہ کے وقت اللہ کی یاد کا حکم (اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال کی آیت نمبر ۴۵ میں اللہ کے ذکر کو جہاد میں کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے دیکھئےحديث اصل كے ليے مقرر ہے، وہ يہ كہ ہر حالت ميں اللہ تعالى كا ذكر كيا جائے، چاہے بے وضوء ہو يا پھر جنبى حالت ميں ہو اللہ كا ذكر سبحان اللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اكبر،

الحمد اللہ وغيرہ دوسرے جائز اذكار اور دعائيں پڑھى جا سكتى ہيں، مسلمانوں كا اس پر اجماع ہے. ليكن جنبى حالت ميں جو اذكار حرام ہيں وہ قرآن مجيد كى تلاوت ہے، كہ كوئى ايك آيت قرآن مجيد سے ديكھ كر يا زبانى پڑھنا جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايسا كرنے كى ممانعت ثابت ہے. ليكن جنبى شخص كے ليے مستحب يہ ہے كہ وہ جب سونا چاہے تو اپنى شرمگاہ دھو كر وضوء كرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button