بیوی سے ہمبستر ی کرنے سے پہلے یہ کام ضرور کرلینا ورنہ اولادنا فرمان ہو گی

ہمبستر ی

پاکستان ٹپس ! یہ تماشا ہی ایسا ہے لوگ سمجھتے ہیں شاید اس میں خوبصورتی حاصل کرنا اور آپس میں فخر کرنا ہی زندگی ہے کہ میرے پاس یہ ہے اور میرے پاس وہ ہے میں نے یہ کام کر لیا اور میں نے وہ کام کرلیا شاید کہ فخر کا نام ہی زندگی ہے حالانکہ زندگی اس کا نام نہیں ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ میری اولاد زیادہ ہو گئی ہے۔ میرے پاس مال زیادہ ہوگیا ہے زندگی کا مفہوم وہ یہی سمجھتے ہیں یہ ان لوگوں کے پاس زندگی کا مفہوم ہے۔

جو زندگی کی حقیقت کا ادراک نہیں کرتے جو زندگی کے مقاصد سے واقف نہیں ہوتے وہ تو عام لوگوں کی طرح ان کی خواہشات ہوتی ہیں میرے اتنے بیٹے ہوگئے ہیں اورمیرے پاس اتنا مال اکٹھا ہو گیا ہے شیطان کا سب سے بڑا حملہ جو ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے شیطان سے کہا تھا واستفزز من استطعت منھم بصوتک واجلب علیھم بخیلک ورجلک وشارکھم فی الاموال والاولاد آپ کی جتنی ہمت ہے آپ لگا لو گھوڑے دوڑا لو مخلوق کے مالوں میں بھی اولادوں میں بھی شرکت کر سکتے ہو تو کر لو کیسے شرکت کرتا ہے۔ شیطان ،شیطان انسان کے مال میں بھی شریک ہوتا ہے جب حرام کا مال ہے تو شیطان شریک ہے ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صدقہ تو ہر انسان کرتا ہے جس کو اللہ نے توفیق دی ہے لیکن آپ نے فرمایا جب تم کسی

چیز کا سودا کر رہے ہو ڈیل کررہے ہو اس وقت شیطان اس کے پاس بیٹھا ہوتا ہے فشوبوا بالصدقہ ایک صدقہ وہ ہے جو ڈیل کرتے وقت صدقہ کرو کہ اس شیطان کے تسلط اور شرارت سے تم بچ سکو بہت زیادہ صدقہ کرنے والے بھی اللہ کے نیک بندے موجود ہیں۔ لیکن جس وقت کوئی سودا خرید رہے ہیں یا بیچ رہے ہیں۔ اس وقت صدقہ کرو اس ڈیل میں شیطان حاضر ہوتا ہے اولاد میں بھی شریک ہوتا ہے شیطان جب اللہ ذوالجلال کے پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار نہ کیا جائے دعائیں اور اذکار یاد نہ ہوں تو شیطان اولاد میں بھی حصے دار ہوتا ہے کیسے اولاد میں حصے دار ہوتا ہے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اولاد کا برائی پر زندگی گزارنا اور اولاد کے ایک نہیں دسیوں ایسے مسائل ہیں جس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اس کا باپ جب گیاتھا

اس کی والدہ کے پاس ایک شریعت نے حکم دیا ہے تووہاں اس نے اس ذکر کا خیال نہیں کیا اس دعا کو یاد نہیں کیا نتیجتا شیطان بھی شریک ہوا۔ حضرت معاویہ بن حَیدَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو تخلیق کیا، پس ایک رحمت مخلوق کے درمیان تقسیم کر دی جس کے باعث وہ باہم رحم کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء (کی شفاعت) کے لئے محفوظ کر لیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

Leave a Comment