اپنی بیٹے یا بیٹی کا رشتہ کرتے وقت یہ 2 باتیں ہمیشہ ذہن میں رکھیں

ڈیلی کائنات ! تحریر میں نبی ﷺ کا فرمان مبارک پیش کیا جارہا ہے جو والدین اپنی بیٹی کا بیٹے کا رشتہ کرنے سے پہلے پریشان رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ پتہ نہیں یہ رشتہ کامیاب رہے گا یا نہیں تو وہ اس تحریر کو لازمی مکمل پڑھیں۔ہم اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر طے ہوتے ہیں پھر بھی ہرکوئی رشتے نہ ہونے یا دیر سے ہونے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے خاص کر لڑکی کے والدین زیادہ پریشان ہوتے ہیں روز بروز یہ مسئلہ

بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ہر دوسرے گھر میں یہی مسئلہ دکھائی دیتا ہے لڑکیوں کی عمریں گزرتی جارہی ہیں۔ اور والدین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں وہ اس پریشانی میں وقت سے پہلے بوڑھے ہوتے جارہے ہیں اور یقینا سب کو اپنی اولاد کے اس فرض سے جلد از جلد فارغ ہونے کی خواہش ہوتی ہے کیونکہ اولاد کی جوانی والدین کی نظروں کے سامنے ڈھلتے موسموں کی طرح ہوتی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ میاں اور بیوی جب زندگی کے نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں جس پر ان کے خاندان کی آئندہ نسلوں کی خوشیوں کا انحصار ہوتا ہے مگر دیکھنے میں آتا ہے کہ آج کے دور میں لڑکا بلند معیار زندگی کے چکروں میں عمر کے قیمتی سال ضائع کردیتا ہے اور یہی کہتے کہتے عمر گزرجاتی ہے کہ جب تک اپنے پاؤں پر کھڑا

نہیں کروں گا اچھی بات ہے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی عمر کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ اور گناہوں سے بچنا چاہئے سچ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ مناسب شکل و صورت کی لڑکیاں بھی نظر انداز کردی جاتی ہیں ایک سانولے اور عام قدو قامت والے لڑکوں کے لئے اس کے والدین نہایت حسین و جمیل خوبصورت اور گوری بہو کی جستجو کرتے ہیں جب کہ ان کے اپنے ہی گھر میں سانولی رنگت والی ان کی بیٹی رشتے کے انتظار میں بیٹھی ہوتی ہے اور اس کی عمر گزر رہی ہوتی ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ انہیں نظر نہیں آرہی ہوتی حالانکہ دیکھا جائے تو وہ خود بھی اسی کشتی پر سوار ہوتے ہیں اگر کہیں لڑکیوں کے اچھے رشتے آتے بھی ہیں تو والدین یا تو خود منع کر دیتے ہیں یا پھر لڑ کیاں

خود انکار کردیتی ہیں پھر خوب سے خوب تر کی تلا ش جاری رہتی ہے اس کا آخر نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے والدین کو اپنی بچیوں کے لئے وہ دن دیکھنے پڑتے ہیں جو انہیں ایسی منزل پر پہنچا دیتے ہیں اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ لڑکا جیسا بھی ہو ہمیں منظور ہے۔ اگر کسی خاندان میں لڑکی کے معیار کے مطابق مناسب رشتہ نہ آرہا ہو تو اکثر مائیں یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ میری بیٹی کے رشتے پر کسی نے بندش لگا دی ہے کسی نے تعویذ کردیئے ہیں یہ ان کی غلط فہمی ہوتی ہے آج کے دور میں زیادہ تر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ لڑکی کے والدین اپنی بچی کی شادی کسی ایسے نوجوان سے کرنا چاہتے ہیں جس کا خاندان بہت مختصر ہو لڑکا اعلی تعلیم یافتہ ہو کوٹھی اور کار کا مالک ہو اس قسم کی سوچ رکھنے اور غیر ضروری معیار بنا لینے سے

یقینا رشتوں میں مزید رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اکثر رشتے سے انکار کرتے ہوئے کہاجاتا ہے کہ لڑکی کی سانولی رنگت ہے یا موٹی ناک ہے چھاٹا قد ہے چھوٹی آنکھیں ہیں دیکھاجائے تو کسی بھی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ کسی بھی دوسرے انسان کی شکل و صورت پر اس طرح بات کرے یا اس کا مذاق اڑائے کیونکہ یہ تو صرف اور صرف اللہ کی تخلیق ہے نبی پاکﷺ نے فرمایا رشتے کرتے وقت دو باتیں ذہن میں رکھو ۔ وہ دوباتیں وہ والدین جان لیں جو یہ تحریر پڑھ رہے ہیں وہ یہ ہے۔ پہلے نمبر پر دین یعنی دین اسلا اور دوسرے نمبر پر اخلاق آپﷺ نے فرمایا رشتے کرتے وقت دو باتیں ذہن میں رکھو دین دیکھو اور اخلاق دیکھو اگر بچہ یعنی بیٹا اپنی پسند کا اظہار کر دے تو اسے نافرمانی نہ سمجھو اور اگر بیٹی اپنی پسند کا ا ظہار کر دے تو اسے بے قدر یا بے حیا نہ

سمجھو جب تک انسان کا باطن خوبصورت نہ ہو ساری خوبصورتی کسی کام کی نہیں ہوتی نبی ﷺ نے فرمایا عورت سے نکاح چار باتیں دیکھ کر کرو مال و دولت ،حسب ونسب ،حسن و جمال اور دین،اور پھر فرمایا مگر تم دین والی کو ترجیح دو۔ایک شخص آپﷺ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یارسول اللہ میری ایک بیٹی ہے جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں اس کے کئی رشتے آئے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا کہاں رشتہ کروں آپ مجھے کوئی مشورہ دیجئے تو آپﷺ نے فرمایا اس کی شادی ایسے شخص سے کرو جو اللہ سے ڈرتا ہو کیونکہ اگر ایسا شخص تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اسے عزت دے گا اور اگر نفرت بھی کرے گا تو ظلم نہیں کرے گا اللہ سے وہی ڈرتا ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے قرآن پڑھتا ہے اور اللہ کے احکامات پر عمل کرتا ہے یاد رکھئے

شریعت نے نکاح کے معاملے میں مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو سختی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ لڑکی اور لڑکے کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائے بہتری یہی ہے کہ والدین کو راضی کر لیں تا کہ آنے والی زندگی میں وہ آپ کا ساتھ دے سکیں انہیں قرآن و حدیث کا حکم سنائیں انہیں بتائیں کہ شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ اپنی مرضی سے شادی کرلیں لیکن اس کے باوجود اگر والدین نہ مانیں تو آپ اپنی مرضی کرسکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین کی عزت اور احترام اورخدمت کرنا آپ کا فرض ہے ۔پسند کی شادی کرنے کے حوالے سے یہ بات اس لئے کی گئی ہے کیونکہ کچھ لوگ اس بارے میں اسلامی کی روشنی میں آگاہی چاہتے ہیں تو اس حوالے

سے یہی بات شریعت کی روشنی میں کافی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کا دل نہیں دکھانا ان کو راضی کرنے کی کوشش کرنی ہے اور قرآن و حدیث کا حکم ان کو بھی سنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button