جس گھر پر الّو آجائے وہاں کس کی موت واقع ہوجاتی ہے

گھر پر الّو

 پا کستان ٹپس ! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہی نیک لوگوں کا ولی ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہی یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی سب مخلوقات کا معبود برحق ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں ﷺآپ تمام انبیائے کرام اور

رسولوں کے سربراہ ہیں یا اللہ ان پر ان کی آل اور تمام صحابہ کرام ؓ پر رحمتیں سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ جانوروں کی اپنی زبان ہوتی ہے انسان نے کچھ پرندوں کی زبانیں سمجھنے کی کوشش کی ہے صدیوں سے مقامی امریکیوں کا لوگوں اور دوسروں جانورے کا ٹھکانہ معلوم کرنے کے لئے اس نام نہاد پرندوں کی زبان پر انحصار کرتے ہیں جو بصورت دیگر انسانی آنکھوں کے لئے پوشیدہ رہ جایا کرتے ہیں کوئیر نیچر کی شریک بانی کوفاؤنڈر جو پرندوں کی زبان پر کورسز پڑھاتی ہیں کہ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بڑے شکاریوں کو

جاننے کے لئے پرندوں کی زبان کا استعمال کرتےرہے ہیں اور یہ سمجھانے کے قابل ہوتے ہیں اور جنگل میں ایک دوسرے کو خبر دار کرتے ہیں اس تحقیق کے مطابق آج ہم جانتے ہیں کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے مگر چودہ سو سال پہلے قرآن نے کہہ دیا تھا کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیئے گئے ہیں بے شک یہ صریح فضیلت ہے سلیمان ؑ نے پرندوں کی بولی زبان سیکھ لی قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ تمام جانور اللہ کی تسبیح

و تعریف کرتے ہیں مگر ہم لوگ ان کی یہ تعریف نہیں سمجھ سکتے اس تحریر میں اللہ کے نبی حضرت سلیمانؑ کی الو کے ساتھ باتوں میں سے کچھ باتوں کا مکالمہ پیش کیا جارہا ہے اس کے بعد ہمارے پیارے آقاﷺ نے الو کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا اور اس کے علاوہ سیدنا امام حسین ؓ کی الو کے ساتھ کس موقع پر ملاقات ہوئی؟الو ایک ایسا پرندہ ہے جس کا نام اکثر اوقات لیا جاتا ہے جب کسی کو کم عقل یا بے وقوف کہنا مقصود ہو کسی سے کوئی بھی غلطی سرزد ہوجائے تو جھٹ سے اسے الو سے تشبیہ دے دی جاتی ہے الو کے بارے میں جس قدر

منفی تاثرات قائم ہیں شاید ہی کسی اور پرندے یاجانور کے لئے قائم ہوں یہاں تک کہ اسے نحوست کی علامت بھی سمجھاجاتا ہے عرب اور ایشیائی ممالک میں تو اس پرندے کو پسند ہی نہیں کیاجاتا مگر مغربی ممالک میں اسے حکمت و دانش کی علامت سمجھاجاتا ہے ہندوؤں کی مذہبی کتاب رامائن میں الو کو بے وقوف کی بجائے بہت ہی دانا پرندہ کہا گیا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ رشی مینو نے بہت سوچ سمجھ کر الو کو لکشمی کی سواری بنایا ہے الو ؤں کی قوت سماعت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن ان کے کان دکھائی نہیں دیتے کیونکہ وہ آنکھوں کے پیچھے

پروں کے گچھوں میں چھپے ہوتے ہیں رات کےاندھیرے میں اپنے شکار کی ہلکی سی آواز سے سمت کا اندازہ لگا کر اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ان کے پنجے خاص قسم کے ہوتے ہیں جس میں چار نوکیلی انگلیاں دو آگے اور دو پیچھے کی جانب ہوتی ہیں ضرورت پڑنے پر پیچھے والی انگلیوں میں سے ایک کو گھما کر آگے کی جانب کیا جاسکتا ہے ان کی چونچ دیگر گوشت خور پرندوں کی طرح نوکیلی اور ٹیڑھی ہوتی ہے پروں سے ڈھکی ہونے کی وجہ سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے برطانیہ میں الو کے بولنے یا اس کے رونے کی آواز کو منحوس سمجھا

جاتا ہے جنوبی افریقہ میں الو کی آواز کو موت کی علامت سمجھا جاتا ہے کینیڈا میں تین رات لگاتار الو کے بولنے پر خاندان میں کسی کی موت یقینی سمجھی جاتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment