زن ا ایک قرض ہے نوجوان لڑکی اور لڑکے کی عشق کی کہانی

نوجوان لڑکی

 پاکستان ٹپس !  وہ دونوں بھا گ کر نکاح کے لیے مولوی صاحب کے پاس جانے والے تھے ۔ تمام گواہوں کا انتظام ہوچکا تھا۔ مگر جب وہ لڑکااور اس لڑکی معصومہ کو اس کے گھر سے بھگا لے جانے آیا ۔ تو معصومہ نے لڑکے کے ہاتھ میں کاغذ دیکھ کر اس سے کہابغیر سوال کیے واپس گھر لوٹ جاؤ۔ اس کے دوست جو ساتھ آئے تھے

وہ سب حیران رہ گئے ۔ بہت تلخ الفاظ میں لڑکی کو طعنہ دینے لگے مگر وہ دوازے سے باہر نہ ہوئی اور کہا کہ دنیا میں اکثر لوگ اس لیے برباد ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ مقافات عمل کی چکی میں پھنسے رہتے ہیں۔ عمل درعمل ہوتا چلاجاتا ہے۔ مقافات کی چکی چلتی رہتی ہے۔ رکتی نہیں ۔ ایسے میں وہی چند دانے پیسنے سے بچ جاتے ہیں۔ جو شروعات پر سخت جاں بحق ہوجائیں۔ مقافا ت کی چکی رکتی نہیں۔ اس پر اتر کر ہی عمل روکا جاسکتا ہے۔ یہ سن کر لڑکا واپس گھر لوٹ گیا۔ گھر جا کر اس نے دیکھا کہ اس کی والد محترمہ جو دل کی

مریضہ تھیں۔ ا س کی ماں بے ہو ش پڑی تھی۔ یہ وہ لڑ کا ہے جس پر باپ کا سایہ نہیں ہے۔ جس وجہ سے دنیا اس کو شروع سے کہہ رہی تھی۔ کہ بگڑجائے گا، مگر کوئی گل ضرورکھلائے گا۔ اسی وقت ماں کو اس حالت میں دیکھ کر کانپ اٹھا۔ اور آوازیں گونجنے لگیں ۔ اور ماں کو ہسپتال لے جا کر ایڈمٹ کروایا۔ کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر صاحبہ نے آکر یہ کہا تم صیحح وقت پر لے آئے ورنہ ان کی جان بچانا مشکل میں تھی۔ اور کہنے لگا کہ آج اگر وہ محبت نہ ٹھکرائی جاتی تو وہ اپنے سکون ، محبت اور ابدی جنت کو ہمیشہ کے لیے کھو چکاہوتا۔

وہ بولا الحمد اللہ ۔ پھر اس کے ذہن میں سوا ل آیا۔ کہ اس بات کا اندازہ اس لڑکی کوکیسے تھا۔ اس نے معصومہ کو کال کی ۔ اور سب حالات سے آگاہی دیتے ہوئے سوال کیا۔ مجھے تو لوٹ آنے کا فائدہ ہوگیا۔ مگر تم نے یہ چال سا ل پرانی محبت چند سیکنڈ میں کیسے موڑ دی۔ تمہیں کیا مصلحت دکھائی دی۔ کہ اس بات یہ کڑوا گھونٹ بھرا ۔ معصومہ کچھ دیر خاموش رہی۔ اور پھر کہا وہ کاغذ جومیں نے تم کو تھمایا تھا۔ وہ میرے مرحوم ماں باپ کا خط ہے ۔ وہ دادا ابو سے لی گئی ابو کی ڈائری سے ملا۔ ا س میں جواب مل جائے گا۔ فون کاٹ دیاگیا۔ لڑکا دوڑا

ہوا گھر کی طرف گیا۔ جہاں اس نے غصے میں کا غذ گرایا تھا۔ اس نے کاغذ اٹھایا تو پڑھا ۔ ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوکر رہ گیا۔ معصومہ کے والد محترم جو اپنی بیگم کے ساتھ ایک حادثے میں ہل اک ہوئے تھے۔ اس کاغذ میں اپنی ایک غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ جومعصومہ کادادا جان کی معذوری اور دادی کی م وت کا سبب تھا۔ معصومہ کے والد محترم نے لکھا۔ میری بربادیوں کا سبب یہ ہے،کہ میں نے اپنی نوسالہ منتظر محبت کے پہلو میں وقت بتانے کے لیے چوبیس والاشخص کے محبت کے آنگن کوچھوڑا۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں نے کسی

کے بانہوں میں چند گھنٹے گزارنے کی خاطر کسی کے وجود میں گزارے نو مہینے بھلا ڈالے ۔ میرا قصور یہ ہے میں نے دنیا کی حور سے لڑکی کی محبت میں ان قدموں تلوں زمین نہ رہنے دی۔ جن میں ایسی جنت خدمت کا تقاضا کرتے ہوئے میری منتظر تھی ۔ جہاں اس لڑکی سے ہزاروں درجے زیادہ خوب اور پاکیزہ حوریں مجھے مل سکتی تھی۔ میں نے جنون کی خاطر سکون ٹھکرایا۔ میں نے ظاہر کی خاطر باطن ٹھکرایا۔ مقافات کا پہیہ گردش لایا ۔ اب بیٹی معصومہ ماں کے ساتھ کھیلتا دیکھتا ہوں ۔ تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں میری بیگم پر بھی وہ نہ گزرے جو

اس کی اور میری جلد بازی کی وجہ سے میرے ماں باپ پر گزرا ۔ دعا ہے کہ بے بے زہرہ رضی اللہ عنہا کی صدقے میری معصومہ کو مقافات کے زد میں آنے بچائے۔ اللہ کریم نے یہی دعا سن کر شایدمقافات کا پہیہ روک دیا۔ میرے عزیز دوستو! کہانی کو بیان کرنے کا مقصد دور حاضر کے مجنوں کو یہ بات واضح کرنا ہے۔ کہ کسی کے ساتھ گزراہو ا طویل عرصہ محبت بھی اس محبت وخلوص اور وقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ جو ہم نے کسی کے وجو د میں بتایا۔ اگر اس حقیقت سے رخ پھیرا جائے تو کوئی نہ سنے اس بربادی کے زیراثر ہوتی چلی جاتی

ہیں۔ اور ہاں ۔ اگر ہر بار قدرت مقافات کے عمل کو دہراتی ہے ۔ تو اسے اس کو قصور وا ر نہیں ٹھہر ایا جاسکتا۔ کیونکہ انسان اپنے نفس کی اصلاح اور خواہشات پر قابو پاکر اس پہیے کی گردش کوروکنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ یاد رکھیں جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ جیسے بوؤ گے ویسا کاٹو گے۔ زندگی اٹھا ہے جہاں پر تم نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ۔ جہاں پر تم نے براکام کیا۔ کل کو لوٹ کر تمہارے پا س آئے گا۔ کہتے ہیں کہ ز ن ا ایک قرض ہے جو اولا د کو چکانا پڑے گا۔

Leave a Comment