ایک عورت نے زنا سے بچنے کے لیے کونسا راستا اپنا لیا

عورت

پاکستان ٹپس ! مولانا صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ایک بیوہ کا فون آیا کہ میں اپنے آپ کو گناہ سے نہیں روک پا رہی بغیر اپنے شوہر کے تو میں معمولی سہ گناہ کرکے اپنی مشاہبت مٹا دیتی ہوں تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ مولانا صاحب کہتے ہیں کہ یہ گناہ ہے ایسا مت کرو، تم کو چاہئے کہ کسی مرد سے نکاح کرلو اور ایسے گناہوں سے

بچ جاو گی اس نے کہا کہ مولانا صاحب مجھ سے کوئی بھی نکاح کے لیے راضی نہیں ہےتو میں کیا کرو۔ مولانا کہتے ہیں کہ کسی مرد سے بس اسی لیے ہی نکاح کرلو وہ مرد کرلے گا تو عورت کہنے لگی کہ مجھے کوئی بھی نہیں رکھ رہا سب ہی کہتے ہیں کہ میں اپنے حاندان کو کیا جواب دونگا اپنے محلے والوں کو کیا جواب دونگا تو میں چپ کر جاتی ہوں اور ھد لزتی کرکے اپنا دل بہلا لیتی ہوں مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مرد جو ایسا کہتے ہیں وہ حد تو رات میں فحش فلمیں دیکھ لیتے ہیں صرف لڑکی کے والدین کو خبر نہیں‌ ہوگی۔ اور دوسری بات

کیا خفیہ نکاح‌ کے بعد اعلانیہ نکاح‌ کرنا جائز ہے؟ جواب: بغیر نکاح کے آپ لوگوں کا ملنا حرام ہے، اس لیے اس سے اجتناب کریں ورنہ گناہ میں مبتلا رہیں گے۔ اولاً کوشش کریں کہ لڑکی کے گھر والے مان جائیں اور ان کی موجودگی میں نکاح ہوجائے، یہ آپ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر پوری کوشش کرنے کے باوجود لڑکی کے گھر والے نہیں مانتے تو آپ اپنے گھر والوں کو شامل کر کے نکاح پڑھ لیں۔ نکاح کے لیے دو عاقل و بالغ مردوں کا گواہ ہونا ضروری ہے ورنہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ بعد میں بےشک روزانہ نکاح پڑھتے رہیں، کوئی حرج

نہیں۔ یہ اجو میگھواڑ ہیں جن کی 13 سالہ بیٹی رادھیکا کو تقریباً دو ہفتے قبل اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اور اس کی بیوی مزدوری کے لیے کارخانے گئے ہوئے تھے۔ ’وہ ہمارے گھر کے سامنے رہتے تھے، ان کا لڑکا میری بیٹی کو اغوا کر کے لے گیا اب وہ اس کو مسلمان کرنا چاہتے ہیں اگر انھوں نے اس کا نکاح کر دیا تو ہم کیا کر سکیں گے؟‘ احتجاج کے بعد پولیس نے رادھیکا کے اغوا کی ایف آئی آر درج کر لی ہے لیکن اجو میگھواڑ کے مطابق پولیس کہتی ہے کہ ’موبائل گاڑی میں پیٹرول ڈالو تو پیچھا کریں گے‘ اب ان کے پاس تو گھر کے کرائے کے جتنے پیسے بھی نہیں بچے

Leave a Comment