موت سے کتنی دیر پہلے ملک الموت نظر آتا ہے ،فرشتہ روح کیسے نکالتا ہے

موت

پاکستان ٹپس ! آج کا موضوع بہت ہی اہم ہے موت سے کتنی دیر پہلے فرشتہ نظر آتا ہے ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔فرعون جب دریا کے اندر غرق ہوا تو پھر اس نے یا کہا تھا میں بھی بنی اسرائیل والو ں جس طرح بنی اسرائیل نے اللہ کو مانا میں بھی اللہ کو مانتاہوں پھر اللہ نے

کہا فرعون کو کہ اب معافی کا موقع نہیں اب میں تمہیں عبرت ناک سزا والا بناؤں گا اور اللہ نے پانی کو حکم دیا تو اس نے باہر لاکر پھینک دیا اور آج تک وہ عبرت کا نشان ہے تو صحیح الجامع کی پہلی روایت ہے کہ جو شخص موت کی گڑگڑاہٹ سے پہلے توبہ کرلیتا ہے اللہ پاک اس کی توبہ کو قبول فرمالیتے ہیں ہم نے جانا برحق ہے کیونکہ ہر ایک نے کل نفس ذائقہ الموت ہر ایک نے موت کا ذئقہ چکھنا ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہر وقت وہ لمحات وہ زبان سے بات نکالیں جو کہ اگر ہمارا آخری وقت بھی ہوتو اللہ پاک خوش ہوجائیں اور صحیح الجامع کی

جو دوسری روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص گڑگڑاہٹ سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کرلیتا ہے اللہ پاک اس کو معافی دے دیتے ہیں اور جو شخص موت کی گڑگڑاہٹ جب ہوتی ہے جب موت آتی ہے پسلی پر پسلی چڑھ جاتی ہے پھر انسان جب معافی مانگتا ہے تو اللہ معاف نہیں فرمائیں گے جس طرح انسان کو فرشتہ عام روٹین میں نہیں نظر آتا لیکن موت سے پہلے اسے نظر آجاتا ہے جب فرشتہ نظر آجاتا ہے تو پھر انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ وقت پہلے تھا اب وقت دوسراشروع ہوچکا ہے ہمیں بھی اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اس اللہ کی

طرف رجوع الی اللہ کرنی چاہئے تا کہ ہم بھی آخری وقت میں اللہ کو یاد کر سکیں اگر ہم روزانہ نماز پڑھتے ہیں تو دعا کرنی چاہئے یا اللہ یا تو سجدے میں موت دینا یا تو ایمان والی یا شہادت والی موت دینا دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ پوری دنیا کو شہادت والی موت عطا فرما جتنے بھی مسلمان ہیں سب کو دین اسلام پر مرنے کی توفیق عطافرما اور ہمارے کبیرہ صغیرہ گناہ معاف فرما۔امام علی ؓ کا قول ہے :مظلوم کے حامی رہنا اور ظالم کے دشمن:امام علیؑ کہ اس قول نے اس گتھی کو سلجھا دیا ہے کہ ظلم چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، کسی بے گناہ کا قتل ہو یا کسی کے حق

کا چھیننا، ہمارے دل ہمیشہ مظلوم کہ ساتھ رہیں اور ہماری نفرت فقط ظالم کے لئے۔ یہ قول اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا تو اس کی بات کو برداشت کر لیا جائے۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ جو مظلوم ہو اس سے کوئی خطا سرزد نہ ہو۔ میرے لئے یہ قول زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ مظلوم کے لئے بلا جھجک آواز اٹھانا مجھے اس جملے نے سکھایا۔ بہت بار اس کے باعث مجھے نفرتوں اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن روح مطمئن رہی اور ذہن آزاد محسوس ہوا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment