حمل نہ ٹھہرنے کی سب سے بڑی وجہ

حمل نہ ٹھہر

پاکستان ٹپس ! اولا د بہت بڑی نعمت ہے ۔ اگر وقت پر اولاد نہ آئے تو بہت زیادہ جوڑے سٹریس میں چلا جاتاہے اس کے لیے یہ کہناچاہتے ہیں کہ سب سے پہلے ایک سال سے پہلے خدارا یہ سٹریس لینا نہ شروع کریں۔ ایک سال نارمل پیریڈز ہے جو کہ ہر جوڑے کودینے چاہیے۔ سائنٹیک فیکلی طور پر ٹوگیڈپریگنینٹ۔ ایک سال پہلے

اس چیز کو پرسیو کرنا بہت پری میچور ہے۔ لیکن جب کپل بہت زیادہ سٹریس لے کرآتا ہے۔ اگر ہم ان کو یہ کہہ کر بھیج دیں ۔ تو وہ اچھی طرح مطمئن نہیں ہوتے ۔ اور پچانوے فیصد کپل میں ان کی اپنی خواہش کا سٹریس اتنا نہیں ہوتا جتنا باہر کا سٹریس زیادہ ہوتا ہے۔ ہر مہینے پیریڈز آگئے ہیں۔ خوشخبری ہے یا نہیں ہے ، سہیلی کا بچہ ہونے والا ہے اور آپ کا نہیں ہونے والا نہیں ہے۔ دو بھائیوں کی شادی اکٹھی ہوگئی ہے۔ ان کو حمل ہوگیا ہے یہ ہے وہ نہیں ہے۔ خدارا ان چیزوں سے باہر نکلیں ۔ ہر جوڑے کی اپنی ٹائپ ہوتی ہے۔ ہرانسان کی اپنی قسمت ہوتی ہے۔

آپ اس موازانے کو چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی کو انجوائے کریں۔ اور اس کو پریشانیوں سے ختم کریں ۔ ایک سال سے پہلے بچے کےنہ ہونے کو ایشو نہ بنائیے۔ اس کے بعد بچہ پیدا نہیں ہوتا تو اپنے ڈاکٹر کے پاس جا ئیے ۔ اس میں میل اور فی میل کا چیک اپ ہونا ضرور ی ہے۔ اگر میل چیک اپ نہ کروائے تو وہ فی میل کو بھی نہ بھجوائے ٹیسٹ کروانے کے لیے ۔ کیونکہ یہ ادھورا کام ہوجائے گا۔ ہم فی میل کو چیک اپ کرواتے رہیں گے اس کو دوائیاں اور ٹیکے وغیرہ لگواتے رہیں گے ۔ اور آخر میں یہ مسئلہ میل میں ہوگا۔ تو یہ فی میل کے ساتھ زیادتی ہے۔

اور وقت کا ضیاع ہے۔ اس لیے جب بھی یہ مسائل ہوں تو ڈاکٹر کا فرض ہے کہ دونوں کا علاج کیا جائے ۔ اب چلتے ہیں فی میل کی طرف۔ اس میں ہارمونل مسئلہ بھی ہوسکتاہے۔ جیسے تھائی رائیڈ اور بھی بہت سے ہارمونز ہوتے ہیں جن کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اووریز میں مسئلہ ہوسکتا ہے۔ جیسے اووریز اوسسٹ ہے ۔ جو کہ حمل میں مسئلہ کرتی ہیں۔ یہ بھی ایک پرابلمز ہوتی ہے جو کہ عورتوں میں ہوسکتی ہے۔ جس میں یہ شکایت کرتی ہے کہ پہلے ا س کو پیریڈز زیادہ تھے اور درد رہا ہے۔ یا انٹرکورس کے دوران بہت زیادہ درد تھا۔ جب ہم

تحقیق کرتے ہیں۔ تو اینڈیومیچیوسز نکلتا ہے۔ تو اینڈیو میچیو سیز میں فی میل حاملہ نہیں ہوتی۔ اس کا ایک مکمل علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیسرےنمبر ز پر کسی خاتون کی ٹیو بز بند ہوسکتی ہیں۔ تو اس میں حمل ٹھہرنے میں مسئلہ ہوسکتا ہے اور آخر میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حاملہ ہو ہی نا۔ چوتھے نمبر ز پر اگر یوٹرس میں رسولی ہے۔ یا اووری میں پانی تھیلی ہے۔ جو کہ بہت بڑے سائز کی ہے۔ یہ چیزیں حمل میں مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔ یوٹر س میں انفیکشن حمل میں مسئلہ ہوسکتا ہے۔ ا ن تمام مسائل میں مریض کا مکمل علاج ، اس کی

ہسٹری ، الٹراساؤنڈ اور ڈائیگنا نوسٹک لیپرا سکوپی ہے یہ ایک لیز ر ہے جس میں دو چھوٹے چھوٹے اوپننگ کے ذریعے پیٹ میں کیمرہ ڈال کر دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں ٹیوبز کھلی ہیں یا نہیں ۔ اگر اووریز میں اسسٹ ہے تو یہ بھی پتہ چل سکتاہے۔ اگر انفیکشن ہے جس کو پی۔آئی ۔ڈی کہتے ہیں ۔ یہ بھی پتہ چل سکتا ہے ۔ اگر یوٹرس آگے پیچھے جڑی ہوئی ہے تو یہ بھی پتہ چل سکتا ہے۔ تو اس کو بچانے کے لیے مریض آخر ی حد تک کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ آپریشن کے نام پر ہم گھبراتے ہیں۔ ہم لوگ علاج سے گھبراتے ہیں لیکن مسئلے سے نہیں گھبراتے۔

ہونا یہ چاہیے کہ مسئلے سے گھبرائیں اوراس کے علاج سے نہ گھبرائیں۔

Leave a Comment