خواتین کے لیے میتھی دانہ کے چند حیرت انگیز فائدے

پی کے ٹپس! میتھی دانہ کے بےشمار فوائد کو دیکھتے ہوئے خواتین کی صحت کو بہتر کرنے کے لیے اس کا استعمال صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔ میتھی دانہ ہارمونز کی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بہترین دوائی کے طور پر مانا جاتا ہے اور بہت سی خواتین اسے استعمال بھی کرتی ہے ۔ ذیل میں ہم کچھ ایسے گھریلو نسخے بتار رہے ہیں جن پر عمل کر کے خواتین ان مسائل سے نجات پا سکتی ہیں

۔ایک چائے کا چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں شامل کر کے پینے سے ہارمونز کی بے ترتیبی درست ہوجاتی ہے ۔ اس چائے کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ہارمونز کی ترتیب کے لیے یہ چائے جادوئی طرح سے کام کرتی ہے ۔اگر آپ مسلسل پریشان ہیں اور آپ کو بہت زیادہ ذہنی تناؤ رہتا ہے تو اس نسخے پر عمل کر کے آپ اپنا اسٹریس لیول کم کرسکتی ہیں ۔اس کے لیے میتھی دانہ ، لیموں کا رس، شہد ، تلسی کے چند پتے اور ایک دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں اُبال کر ٹھنڈا کرکے پی لیں ۔اسٹریس لیول میں ضرور کمی آئے گی ۔ایک چٹکی میتھی دانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ پینے سے ماہواری کے درد سے نجات مل سکتی ہے ۔ ایام مخصوصہ سے دو یا تین دن پہلے بھی اگر اس نسخہ پر عمل کیا جائے تو periodsکی وجہ سے ہونے والی دوسری پریشانیوں سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے ۔تین کھانے کے چمچ میتھی دانہ دو کپ پانی میں اُبالیں اتنا اُبالیں کہ پانی آدھ رہ جائے ۔ اب میتھی دانہ کا پیسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ کو اپنے پر بلیک ہیڈز اور کھلے مسام پر لگا لیں۔ اسے خشک ہونے دیں پھر چہرے پر اسکرب کر کے اُتار لیں ۔ پہلی دفعہ کے استعمال سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے اور روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ میتھی دانہ کے پانی کو بالوں کی جڑوں میں لگالیں اور پوری رات لگا رہنے دیں ۔ صبح نیم گرم پانی دھو لیں ۔ اس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور بال گھنے ہوتے ہیں ۔۔میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بہت مفید ہے ۔

اس کے علاوہ ڈیلیوری کے بعد ہونے والی کمزوری میں بھی میتھی دانے کے استعمال سے بہت افاقہ ہوتا ہے ۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے ۔ میتھی دانہ ہر طرح سے خواتین کے لیے بہترین ہے۔

Check Also

پھٹی ایڑھیاں یا فنگس

پھٹی ایڑھیاں یا فنگس زدہ ناخن، جانیں پاؤں کو تکلیف میں مبتلا کرنے والی 3 مشکلات اور ان کا حل

جسم کے کسی بھی حصے میں ہونے والا درد ہمارے لیے تکلیف کا باعث بنتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *